بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

پراپرٹی کی زکوۃ کیسے ادا کریں؟


سوال

ایک شخص نے پراپرٹی لی  ،جسکا کچھ حصہ فروخت ہوچکا ہے اور بقیہ فروخت نہیں ہوا ہے اور اس میں   5 افراد شریک  ہیں، اب یہ شخص اس پراپرٹی کی زکوۃ کا  حساب کیسےادا کرے گا؟ 

جواب

جو پراپرٹی آگے فروخت کرنے کی نیت سے خریدی جائےاس کی قیمت پرزکوۃلازم ہوتی ہے، اور قیمت ِفروخت کا اعتبار ہوتا ہے۔مشترکہ پراپرٹی میں اگر ہر شریک کا حصہ نصاب کے برابرہوتو سال پورا ہونے کے بعد ہر شریک پر اپنے اپنے حصے کی زکوۃ ادا کرنا لازم ہوگا۔

صورتِ مسئولہ میں   اگر مذکورہ شخص صاحبِ نصاب ہے یعنی  اس کی ملکیت میں سونا، چاندی، نقدی اور مال  تجارت میں سے سب یا کچھ کی  مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو توزکوۃ لازم ہے۔پراپرٹی کی  زکوۃ کا حساب اس طرح کرے کہ پراپرٹی کے فروخت شدہ حصے میں اپنے حصےکی رقم(جو موجودہو) اور باقی پراپرٹی میں اپنے حصےکی قیمتِ فروخت ،دونوں کے مجموعے کا حساب کرکے اس کا 2.5  فیصد  ا داکردے۔

ِالبحر الرائق  میں ہے:

"(قوله وفي: عروض تجارة ‌بلغت ‌نصاب ‌ورق ‌أو ‌ذهب معطوف على قوله أول الباب في مائتي درهم أي يجب ربع العشر في عروض التجارة إذا بلغت نصابا من أحدهم...)."

(ج:2،ص:245،ط:دار الکتاب الاسلامی)

بدائع الصنائع میں ہے:

"‌وأما ‌أموال ‌التجارة فتقدير النصاب فيها بقيمتها من الدنانير والدراهم فلا شيء فيها ما لم تبلغ قيمتها مائتي درهم أو عشرين مثقالا من ذهب فتجب فيها الزكاة، وهذا قول عامة العلماء."

(فصل:فی نصاب اموال التجارۃ،ج:2،ص415،ط:دار الکتب العلمیہ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144508101126

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں