بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ربیع الثانی 1442ھ- 01 دسمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

پرائز بانڈ کے انعام کے لیے کسی کی مدد کرنا


سوال

میں بذاتِ خود پرائز بانڈ کی انعامی رقم کو ناجائز اور حرام سمجھتا ہوں، لیکن میرے والد صاحب نے پرائز بانڈ رکھے ہوئے ہیں، وہ کسی مفتی صاحب کے فتوے کے تحت اس کو حلال سمجھتے ہیں، وہ  مجھے اپنے اس کام میں استعمال کرتے ہیں، یعنی پرائز بانڈ چیک کرنا، گننا، لانا، لے جانا، بینک میں اس کی رقم جمع کروانا وغیرہ وغیرہ۔

اب میرے آپ سے 2 سوالات ہیں:

1- میرے لیے صرف بطور معاونِ شرعی، والد صاحب کے یہ کام کرنا جائز ہے یا نہیں؟ کیوں کہ میں نے سنا ہے کہ حدیثِ پاک میں سود کے ساتھ منسلک لوگوں کے بارے میں وعیدات آئی ہیں، یعنی سود لکھنے والے، لانے والے، لے جانے والے وغیرہ وغیرہ تو آیا کہ اس میں ان میں شامل ہوں یا نہیں؟

2- ایسے آدمی کی وراثت کہ جس کے مال میں انعامی رقم کی نامعلوم مقدار مخلوط ہو، اس کی وراثتی رقم بیٹوں کے لیے لینا جائز ہو گی یا نہیں؟

جواب

1 : صورتِ مسئولہ میں آپ کا پرائز بانڈ کے لیے والد کی معاونت کرنا ناجائز ہے۔

2 : جس موروثی مال میں حرام مال شامل ہو، وہ حرام مال ورثاء کے لیے لینا جائز نہیں ہوتا، بلکہ اسے متعلقہ ادارے یا شخص کو واپس کردیا جائے اور اگر واپس کرنا ممکن نہ ہو تو بغیر ثواب کی نیت کے صدقہ کردے۔

أحكام القرآن للجصاص ت قمحاوي (3 / 296):

"وقوله تعالى: {ولا تعاونوا على الإثم والعدوان} نهي عن معاونة غيرنا على معاصي الله تعالى".

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144203200975

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں