بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 ربیع الاول 1442ھ- 20 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

پرائز بانڈ کی انعامی رقم سے قرض کی آدائیگی


سوال

کیا ایک شخص انعامی بانڈ میں نکلنے والی رقم سے اپنا قرض اتار سکتا ہے، جب کہ اس کی ملکیت میں ایک پلاٹ ہے جو اس کے بیٹے کی تعلیم کے لیے رکھا ہے، جس کی ادائیگی بھی فوری ہے۔ کیا انعامی رقم استعمال کی کوئی گنجائش ہے؟

جواب

پرائز بانڈ چوں کہ سود اور جوئے پر مشتمل ہوتا ہے؛ اس لیے اس کی خرید و فروخت جائز نہیں، اس سے حاصل ہونے والی رقم شرعاً سود کے حکم میں ہے، اور سود کا لین دین کرنے والوں کے بارے میں حدیث شریف میں بہت سخت وعید وارد ہوئی ہے۔ اگر کسی نے لاعلمی میں لے لیا ہے یا  تبادلے میں آگیا ہے  تو بانڈ پر انعام نکلنے کی صورت میں صرف اصل رقم استعمال کرنا جائزہے،  انعامی رقم کا استعمال شرعاً جائز نہیں، اور یہ انعامی رقم ثواب کی نیت کے بغیر کسی مستحقِ زکاۃ کو دینا ضروری ہے؛ لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کا انعامی رقم سے قرض اتارنا جائز نہیں، سائل کو چاہیے کہ  اتنی رقم سے قرض ادا کرے جتنی رقم خرچ کر کے پرائز بانڈ خریدا ہے، باقی زائد (انعامی) رقم ثواب کی نیت کے بغیر مستحقِ زکاۃ کو دے دے۔

حدیث شریف میں ہے:

"حدثنا الحسن بن موسى، عن حماد بن سلمة، عن علي بن زيد، عن أبي الصلت، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " أتيت ليلةً أسري بي على قومٍ بطونهم كالبيوت، فيها الحيات ترى من خارج بطونهم، فقلت: من هؤلاء يا جبرائيل؟ قال: هؤلاء أكلة الربا ".

وفیه أیضًا:

"حدثنا سماك بن حرب، قال: سمعت عبد الرحمن بن عبد الله، يحدث عن عبد الله بن مسعود، «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، لعن آكل الربا، وموكله، وشاهديه، وكاتبه»".

ترجمعہ:  حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے اور کھلانے والے اور اس کے گواہ بننے اور لکھنے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔

(سنن ابن ماجه، باب التغليظ في الربا، ج: 1/ صفحہ: 763 و764، رقم الحدیث: 2273 و2277، ط: دار إحياء الكتب العربية - فيصل عيسى البابي الحلبي)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144202201085

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں