بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

پرندوں کو پالنا اور کاروبار کرنے کا حکم


سوال

میرا ماموں پرندوں کا کاروبار کرتا تھا، ان کو قید کرتا تھا، پھر ان کو عجیب سی بیماری لگ گئی،جس کی وجہ سے وہ انتقال کرگیا، کیا ان کی وفات اسی بیماری کی وجہ سے ہوئی ہے،  کیا پرندوں کا کاروبار درست ہے؟ 

جواب

پرندے پالنا اور ان کا کاروبار کرنا جائز ہے،  البتہ پرندوں کے دانہ پانی اور دیگر حقوق کا خیال رکھناضروری ہے، ان کو ستانا یا آپس میں لڑانا جائز نہیں ہے، باقی بیماری کی وجہ اللہ ہی کو معلوم ہے۔

موسوعة الفقه الإسلامي: میں ہے:

"وصيد الصيد أو أخذه من أجل أن يتسلى به الصغار جائز، لكن يجب مراقبة الصبي حتى لا يؤذي هذا الصيد، أو يهمله ولا يطعمه.

عَنْ أنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ - صلى الله عليه وسلم - أحْسَنَ النَّاسِ خُلُقاً، وَكَانَ لِي أخٌ يُقَالُ لَهُ: أبُو عُمَيْرٍ - قَالَ: أحْسِبُهُ - فَطِيمٌ، وَكَانَ إِذَا جَاءَ قال: «يَا أبَا عُمَيْرٍ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ». نُغَرٌ كَانَ يَلْعَبُ بِهِ، فَرُبَّمَا حَضَرَ الصَّلاةَ وَهُوَ فِي بَيْتِنَا، فَيَأْمُرُ بِالبِسَاطِ الَّذِي تَحْتَهُ فَيُكْنَسُ وَيُنْضَحُ، ثُمَّ يَقُومُ وَنَقُومُ خَلْفَهُ فَيُصَلِّي بِنَا. متفق عليه ".

(كتاب الأطعمۃ والأشربۃ، باب الصید، ج:4، ص:387، ط:بیت الافکار الدؤلیۃ)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

" بيع السنور وسباع الوحش والطير جائز".

(کتاب البیوع، الباب التاسع فی بیع مایجوز، ج:3، ص:114، ط:مکتبہ رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144501102395

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں