بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

پریمیم پرائز بانڈ پر انعام کے علاوہ ملنے والی رقم کا حکم


سوال

25000 والے اور 40000 والے پریمیم پرائز بانڈ پر گورنمنٹ کی طرف سے جو ماہانہ پیسے  ملتے ہیں انعام کے علاوہ ۔ اس کے لئے کیا حکم ہے کیا یہ لینا جائز ہے؟یا یہ سود کے زمرے میں آتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ  پریمیم پرائز بانڈ پر گورنمنٹ کی طرف سے جو پیسے ملتے ہیں وہ سود ہے، اس کا لینا جائز نہیں ہے۔

قرآن كریم میں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:

"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَإِن تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ وَإِن كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَىٰ مَيْسَرَةٍ ۚ وَأَن تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ." (البقرة، 280،279،278)

ترجمہ:  "اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود کا بقایاہے اس کو چھوڑ دو اگر تم ایمان والے ہو، پھر اگرتم نہ کرو گے تو اشتہار سن لو جنگ کا اللہ کی طرف سے اور اس کے رسول کی طرف سے۔ اور اگر تم توبہ کرلوگے تو تم کو تمہارے اصل اموال مل جائیں گے، نہ تم کسی پر ظلم کرنے پاؤ گے اور نہ تم پرکوئی  ظلم کرنے پائے گا، اور اگر تنگ دست ہو تو مہلت دینے کا حکم ہے آسودگی تک اور یہ کہ معاف ہی کردو اور   زیادہ بہتر ہے تمہارے لیے اگر تم کو خبر ہو"۔

بدائع الصنائع میں ہے:

 "(وأما) الذي يرجع إلى نفس القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة، على أن يرد عليه صحاحا، أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه «نهى عن قرض جر نفعا» ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب."

(کتاب القرض ، فصل فی شرائط رکن القرض ، ج 7، ص 395 ، ط:سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

"لان الرباھوالفضل الخالی عن العوض."

(کتاب البیوع ، باب خیارالعیب ، ج5 ، ص 21 ، ط:سعید)

الدر المختار میں ہے:

  "كل قرض جر نفعا ،حرام."

(کتاب البیوع ،باب المرابحة والتولیة ،فصل فی القرض ،ج5 ،ص166،ط:سعید)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144409100724

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں