بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 محرم 1446ھ 19 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

پورے رمضان اعتکاف کرنے والے کےلئے غیرواجب غسل کرنے کاحکم


سوال

جو شخص پورے رمضان اعتکاف کرے تو کیا وہ غیر واجب غسل کر سکتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرنا سنت ہے،اس کے علاوہ ایام میں اعتکاف کرنا مستحب ہے ۔نیز  نبی کریم ﷺ سے پورے رمضان کا اعتکاف بھی ثابت ہے،  لیکن  آپ ﷺکامستقل معمول یہ نہیں تھا ،لہذا رمضان المبارک کے پورے مہینے میں اعتکاف کرنے کو آپ ﷺ کی سنت قرار نہیں دیا جاسکتا۔ 

لہذا مسنون اعتکاف (آخری عشرہ)میں غیرواجب غسل یعنی جمعہ کے لئے   غسل یا ٹھنڈک کے لیے غسل کی نیت سے مسجد سے باہر جانا معتکف کے لئے جائز نہیں ہے۔

چنانچہ رمضان کے باقی ایام میں اعتکاف کرنا مستحب ہے ،تو ان دنوں میں معتکف کے لئےغسل واجب کے علاوہ دیگر  غسل کی گنجائش ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وينقسم إلى واجب، وهو المنذور تنجيزا أو تعليقا، وإلى سنة مؤكدة، وهو في العشر الأخير من رمضان، وإلى مستحب، وهو ما سواهما هكذا في فتح القدير۔"

(کتاب الصوم ،الباب السابع فی الاعتکاف،211/1،ط،دار الفکر)

وفیہ ایضاً:

"ومن الأعذار الخروج للغائط والبول، وأداء الجمعة) فإذا خرج لبول أو غائط لا بأس بأن يدخل بيته ويرجع إلى المسجد كما فرغ من الوضوء، ولو مكث في بيته فسد اعتكافه، وإن كان ساعة عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - كذا في المحيط ولو كان بقرب المسجد بيت صديق له لم يلزم قضاء الحاجة فيه، وإن كان له بيتان قريب وبعيد قال بعضهم: لا يجوز أن يمضي إلى البعيد فإن مضى بطل اعتكافه كذا في السراج الوهاج....هذا كله في الاعتكاف الواجب أما في النفل فلا بأس بأن يخرج بعذر وغيره في ظاهر الرواية، وفي التحفة لا بأس فيه بأن يعود المريض ويشهد الجنازة كذا في شرح النقاية للشيخ أبي المكارم۔"

(مسائل فی الاعتکاف،213/1)

فتاوی شامی میں ہے:

"(وحرم عليه) أي على المعتكف اعتكافا واجبا أما النفل فله الخروج لأنه منه لا مبطل كما مر (الخروج إلا لحاجة الإنسان) طبيعية كبول وغائط وغسل لو احتلم ولا يمكنه الاغتسال في المسجد كذا في النهر۔"

(کتاب الصوم،باب الاعتکاف،444/2،ط،دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144509101799

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں