بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الاول 1442ھ- 21 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

پلاٹ پر زکوۃ


سوال

میرے دو پلاٹ ہیں جو  قسطوں پر لیے ہیں اور ابھی دونوں کی قسطیں ادا کر رہا ہوں۔ یہ میں نے مکان بنانے کے  لیے خریدے ہیں، ایک کو بیچ کر دوسرے پر مکان بنانا چاہتا ہوں۔ کیا ان پر زکات فرض ہے؟

جواب

واضح رہے کہ پلاٹ پر زکات  کے وجوب سے متعلق ضابطہ یہ ہے کہ جو پلاٹ بیچنے کی نیت سے خریدا جائے  اُس پر زکات واجب ہوتی ہے اور جو پلاٹ رہائش کی نیت سے خریدا جائے اُس پر زکات واجب نہیں ہوتی، اگر کوئی پلاٹ رہائش کی نیت سے خریدا جائے پھر بعد میں اُس کو بیچنے کا ارادہ ہو جائے تو  محض بیچنے کے ارادے سے اُس کی رقم پر زکات واجب نہ ہو گی، بلکہ جب اُس کو بیچ دیا جائے پھر اُس کی رقم پر زکات کے ضابطہ کے مطابق زکات واجب ہو گی۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں جو پلاٹ بیچنے کی نیت سے خریدا گیا ہے، اُس پلاٹ کی زکات واجب ہو گی اور جو پلاٹ رہائش کی نیت سے خریدا گیا ہے، اُس پر زکات واجب نہیں ہو گی۔

جو پلاٹ بیچنے کی نیت سے خریدا ہے، اس کی موجودہ مارکیٹ ویلیو معلوم کرکے اس کی جتنی اقساط رواں سال ادا کرنا ذمہ میں واجب الادا ہیں، انہیں منہا کرکے بقیہ رقم کا زکات میں حساب کیا جائے گا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144110201302

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں