بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو القعدة 1445ھ 18 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

پلاٹ کے حصول کے لیے قرعہ اندازی میں شمولیت کا رجسٹریشن فارم بیچنا


سوال

بحریہ ٹاون میں قرعہ اندازی میں شامل ہونے کےلیے جو رجسٹریشن فارم دیا جاتا ہے۔ اس کو قرعہ اندازی میں حصہ ملنے سے پہلے آگے بیچنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورت ِ  مسئولہ میں  بحریہ ٹاؤن میں زمین کے حصول کے لیے قرعہ اندازی میں شمولیت کا  صرف رجسٹریشن فارم  آگے فروخت کرکے نفع کمانا  جائز نہیں ہے۔

نیز یہ بھی ملحوظ رہے کہ  قرعہ اندازی میں نام آنے کے بعد  اگر  خریدار کو ثبوت کے طور پر "فائل" مل جائے تو تو اِس فائل کی خرید و فروخت  کا حکم یہ ہے کہ اگر نقشہ بنا لیا گیا ہو اور نقشہ کے مطابق فائل میں  پلاٹوں کی تعیین ہو چکی ہو تو اِس صورت میں اس پلاٹ اور فائل کی خرید و فروخت جائز ہو گی ،اور اگر پلاٹوں کی تعیین نہیں ہوئی تو خرید و فروخت اُس وقت جائز ہو گی جب سودا کرتے وقت یہ کہا جائے کہ  اس رقبہ اراضی میں سے اتنا  حصہ فروخت کر دیا  یا ان پلاٹوں میں سے ایک پلاٹ فروخت کر دیا۔  لیکن خریدار یہ پلاٹ اُس وقت  تک آگے  فروخت نہیں کر سکتا جب تک پلاٹوں کی  تعیین نہ ہو جائے؛ کیوں کہ اس قطعہ اراضی میں سے اُس کے لیے پلاٹ حوالہ کرنا ممکن نہیں ہو گا اور تعیین کا طریقہ یہ ہے کہ بلاک اور پلاٹ نمبر فائل میں لکھ دیا جائے۔

مجلة الأحكام العدلية " میں ہے:

"(المادة 198) : يلزم أن يكون المبيع مقدور التسليم۔

(المادة 200) : يلزم ‌أن ‌يكون ‌المبيع ‌معلوما عند المشتري۔

(المادة 203) : يكفي كون المبيع معلوما عند المشتري فلا حاجة إلى وصفه وتعريفه بوجه آخر."

(الکتاب الاول فی البیوع، الباب الثاني: في بيان المسائل المتعلقة بالمبيع،  ‌‌الفصل الأول: في حق شروط المبيع وأوصافه، ص:41، ط: نور محمد)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"ومنها ‌أن ‌يكون ‌المبيع ‌معلوما والثمن معلوما علما يمنع من المنازعة فبيع المجهول جهالة تفضي إليها غير صحيح كبيع شاة من هذا القطيع وبيع شيء بقيمته وبحكم فلان."

(کتاب البیوع، ‌‌الباب الأول في تعريف البيع وركنه وشرطه وحكمه وأنواعه،3/ 3 رشیدیة)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144502102087

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں