بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ذو القعدة 1445ھ 19 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

پلاٹ تعمیر کرنے کے لیے پیسے نہ ہونے کی صورت میں ایک تدبیر


سوال

میرے پاس 12 مرلہ زمین ہے، میں چاہتا ہوں کہ اس پرمکان تعمیر کروں، لیکن پیسے نہیں ہیں،  اس لیے ایک دوست سے مشارکہ پر اسے آباد کرنا چاہتا ہوں،  مہربانی ہوگی اگر مشارکہ کا طریقہ و اصول سے آگاہ فرماویں۔ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کی زمین پر مکان کی تعمیر  کرنے کے لیے شرکت کا معاملہ کرنا درست نہیں ہے، البتہ جائز صورت یہ ہوسکتی  ہے، کہ کسی کو مکان تعمیر کرنے کا ٹھیکہ دیدے اور اس کی رقم مقرر کرے، جب مکان تعمیر ہوجائے تو یا تو اس کو اجرت کی رقم ادا کردے اور اگر رقم کا انتظام نہیں ہے، تو اجرت کی رقم کے  بدلے  تعمیر شدہ مکان کا کچھ حصہ دیدے تو یہ جائز ہوگا، البتہ شروع سے یہ کہنا  کہ آپ جو مکان تعمیر کریں گے اس کا مثلاً آدھا حصہ اجرت ہے یہ درست نہیں ہے۔ 

فتاوی شامی میں ہے:

"(ولو) (دفع غزلاً لآخر لينسجه له بنصفه) أي بنصف الغزل (أو استأجر بغلاً ليحمل طعامه ببعضه أو ثوراً ليطحن بره ببعض دقيقه) فسدت في الكل؛ لأنه استأجره بجزء من عمله، والأصل في ذلك نهيه صلى الله عليه وسلم عن قفيز الطحان، وقدمناه في بيع الوفاء. والحيلة أن يفرز الأجر أولاً أو يسمي قفيزاً بلا تعيين ثم يعطيه قفيزاً منه فيجوز، (وحكم الأول)  وهو الفاسد (وجوب أجر المثل بالاستعمال) لو المسمى معلوماً، ابن كمال (بخلاف الثاني) وهو الباطل فإنه لا أجر فيه بالاستعمال حقائق (ولاتملك المنافع بالإجارة الفاسدة بالقبض، بخلاف البيع الفاسد) فإن المبيع يملك فيه بالقبض، بخلاف فاسد الإجارة، حتى لو قبضها المستأجر ليس له أن يؤجرها، ولو آجرها وجب أجر المثل ولايكون غاصبًا، وللأول نقض الثانية، بحر معزياً للخلاصة وفي الأشباه: المستأجر فاسداً لو آجر صحيحاً جاز وسيجيء."

(كتاب الإجارة، مطلب في الاستئجار على المعاصي، ج:6، ص:56، ط:سعيد)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"صورة قفيز الطحان أن يستأجر الرجل من آخر ثورا ليطحن به الحنطة على أن يكون لصاحبها قفيز من دقيقها أو يستأجر إنسانا ليطحن له الحنطة بنصف دقيقها أو ثلثه أو ما أشبه ذلك فذلك فاسد والحيلة في ذلك لمن أراد الجواز أن يشترط صاحب الحنطة قفيزا من الدقيق الجيد ولم يقل من هذه الحنطة أو يشترط ربع هذه الحنطة من الدقيق الجيد لأن الدقيق إذا لم يكن مضافا إلى حنطة بعينها يجب في الذمة والأجر كما يجوز أن يكون مشارا إليه يجوز أن يكون دينا في الذمة ثم إذا جاز يجوز أن يعطيه ربع دقيق هذه الحنطة إن شاء. كذا في المحيط."

(كتاب الإجارة، الباب الخامس عشر في بيان ما يجوز من الإجارة وما لا يجوز ، الفصل الثالث في قفيز الطحان وما هو في معناه، ج:4، ص:444، ط:دار الفكر)

فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:

"والحیلة في ذالک لمن اراد الجواز ان یشترط صاحب الحنطة قفیزا من الدقیق الجید،ولم یقل من ھذہ الحنطة او یشترط ربع ھذہ الحنطة من الدقیق الجید لان الدقیق اذا لم یکن مضافا الی حنطة بعینھا یجب فی الذمة ـ ـ ـ  وفی الخانیة: وکذا لو استاجر رجلا یجنی ھذا القطن بعشرۃ امناء من ھذالقطن لا یجوز ولو قال بعشرۃ امناء من القطن ولم یقل من ھذا القطن جاز."

(كتاب الإجاره،فصل في قفيز الطحان و ما في معناه، ج:15، ص114،115، ط:مكتبة ذكريا بديوبند)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144410101887

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں