بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ذو القعدة 1445ھ 19 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

پلاسٹک کی ٹوپی میں نماز پڑھنا


سوال

مسجد میں موجود پلاسٹک کی ٹوپیوں میں نماز پڑھنا کیسا ہے اور ان ٹوپیوں میں نماز ہو جاتی ہے ؟ اگر نہیں ہوتی تو ان ٹوپیوں کو مسجد میں رکھنا چاہیے  یا نہیں؟ حالانکہ لوگ مسجدوں کیلئے خرید کر مسجدوں میں رکھ لیتے ہیں ؟

جواب

پلاسٹک کی ٹوپی ہمارے معاشرہ میں اچھی نہیں سمجھی جاتی ، عام طور پر آدمی ایسی ٹوپی پہن کر شریف ومعزز لوگوں کی مجلس میں جانا پسند نہیں کرتا،اس لیے پلاسٹک کی ٹوپی پہن کر نماز پڑھنا مکروہ تنزیہی اور خلاف اولی ہے، آدمی کو اللہ رب العزت کے سامنے اچھے لباس اور اچھی ٹوپی میں کھڑا ہونا چاہیے ۔ اور اگر پلاسٹک کی ٹوپی نہایت میلی کچیلی ہو جیسا کہ بعض مساجد میں پلاسٹک کی ٹوپیاں نہایت گندی ومیلی کچیلی ہوتی ہیں، ان میں سوراخوں کے آس پاس وافر مقدار میں کالا کالا میل جما ہوتا ہے ،تو ایسی ٹوپیاں پہن کر نماز پڑھنا اور بھی زیادہ برا ہوگا، اس لیے بہتریہ ہے کہ  نماز پڑھنے والا خود اپنے پاس ٹوپی رکھنے کا اہتمام کرے اور اگر مسجد میں ٹوپیوں کا انتظام کرنا ہی ہو تو کپڑے کی ٹوپیاں رکھی جائیں اور ان کی صفائی کا بھی اہتمام کیا جائے۔

﴿ یَا بَنِیْ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَکُمْ عِنْدَ كلِّ مَسْجِدٍ﴾ ۔ (الأعراف: الآية: 31)

ترجمہ:اے بنی آدم ہر نماز کے وقت زینت اخیتار کیا کرو۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وصلاته في ثياب بذلة) يلبسها في بيته (ومهنة) أي خدمة، إن له غيرها، وإلا لا۔

 (قوله: وصلاته في ثياب بذلة) بكسر الباء الموحدة وسكون الذال المعجمة: الخدمة والابتذال، وعطف المهنة عليها عطف تفسير؛ وهي بفتح الميم وكسرها مع سكون الهاء، وأنكر الأصمعي الكسر، حلية. قال في البحر، وفسرها في شرح الوقاية بما يلبسه في بيته ولا يذهب به إلى الأكابر، والظاهر أن الكراهة تنزيهية."

(كتاب الطهارة، ج: 1، ص: 640 ،ط: سعيد)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144408101197

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں