بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 ربیع الاول 1442ھ- 29 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

پلازما عطیہ کرنا


سوال

پلازمہ عطیہ کرنے کے بارے میں کیا احکامات ہیں؟

جواب

اگر کوئی ماہر طبیب یہ کہہ دے کہ اس مریض کو پلازما عطیہ کرنے سے اس کی جان بچائی جا سکتی ہے یا اس کو شفا مل سکتی ہے اور اس کے علاوہ علاج کی کوئی صورت نہ ہو،  یا علاج تو ہو  لیکن شفا میں تاخیر کا اندیشہ ہو یا کوئی اور مشکل درپیش ہو  تو ایسی صورت میں اپنا پلازما  کسی مریض کو عطیہ کرنے کی گنجائش ہے، تاہم پلازما  دینے کے عوض کسی قسم کی رقم یا دوسرے منافع وصول کرنا جائز نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وَلَمْ يُبَحْ الْإِرْضَاعُ بَعْدَ مَوْتِهِ)؛ لِأَنَّهُ جَزْءُ آدَمِيٍّ، وَالِانْتِفَاعُ بِهِ لِغَيْرِ ضَرُورَةٍ حَرَامٌ عَلَى الصَّحِيحِ". (3 / 211، باب الرضاع، ط:سعید) فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144111200046

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں