بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

پستان سے پانی نکلنے سے وضو کا حکم


سوال

کیا حاملہ عورت کے پستان سے نکلنے والے پانی سے وضو ٹوٹ جائے گا؟

جواب

عام حالات میں پستان سے نکلنے والے پانی سے وضو نہیں ٹوٹتا، البتہ اگر کسی تکلیف یا زخم کی وجہ سے پستان سے پانی نکلے تو وضو ٹوٹ جائے گا۔

الدر المختار  میں ہے:

"لا ينقض (لو خرج من أذنه) ونحوها كعينه وثديه (قيح) ونحوه كصديد وماء سرة وعين (لا بوجع) وإن خرج (به) أي بوجع (نقض) لأنه دليل الجرح، فدمع من بعينه رمد أو عمش ناقض، فإن استمر صار ذا عذر مجتبى، والناس عنه غافلون."

(کتاب الطهارة، سنن الوضوء: ج:1، ص:147، ط: سعید)

حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:

"أن ماء الصديد ناقض كماء الثدي والسرة والأذن إذا كان لمرض على الصحيح. 

 قوله ( كماء الثدي والسرة الخ ) قال في البحر: الجرح والنفطة وماء السرة والثدي والأذن والعين إذا كان لعلة سواء في الأصح أي في النقض والظاهر أن القيد راجع إلى الأربعة الأخيرة."

(فصل في أوصاف الوضوء: ص: 57، ط: الأمیریة)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144403101391

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں