بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پیدل حج کرنے کی ترغیب

سوال

آپ کی ویب سائٹ پر فتویٰ نمبر: 144311100316 میں لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پیدل حج کی ترغیب نہیں دی ہے، جب کہ فضائلِ حج میں حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ نے ایسی احادیث ذکر کی ہیں، ان میں تطبیق کیسے ہوگی؟

جواب

واضح رہے کہ ہندوستان یا کسی اور دوردراز علاقے سے پیدل حج کر نا یہ اپنے آپ کو مشقت میں ڈالنا ہے ، باقی جس  حدیث میں پیدل حج کر نے کی جو ترغیب آئی ہے وہ مکہ سے  پیدل حج کر نے کی ہے ،حضرت مولانا زکریا صاحب رحمہ اللہ فرماتے  ہیں  کہ پیدل چلنے کے اندر یہ شرط ضروری ہے کہ    مکہ مکرمہ سے جب عرفات جائیں تو اس وقت جوانوں کو اور پیدل چلنے پر قادر لوگوں کو پیدل ہی چلنا چاہیے  ،(فضائل حج )لہذاآپ نے جس  جاری شدہ فتوی کا حوالہ دیا ہےتو   سوال کے مطابق اس کا جواب درست ہے۔  

حدیث شریف میں ہے  :

"مرض ابن عباس مرضا شديدا، فدعا ولده فجمعهم فقال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:من ‌حج ‌من ‌مكة ماشيا حتى يرجع إلى مكة كتب الله له بكل خطوة سبع مائة حسنة، كل حسنة مثل حسنات الحرم قيل: وما حسنات الحرم؟ قال: بكل حسنة مائة ألف حسنة هذا حديث صحيح الإسناد."

(مستدرک،كتاب المناسك،631/1،دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144401100099
تاریخ30-07-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں