بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

پچھلی رات کی وتر کی قضا نماز پڑھنے کا طریقہ


سوال

پچھلی رات کی نمازِ وتر قضا کرنےکا طریقہ بتادیں؟

جواب

مکروہ اوقات کے علاوہ  قضا کی نیت سے معمول کی طرح وتر کی نماز قضا کی جائے ،البتہ اگر کوئی شخص صاحبِ ترتیب ہو،یعنی جس کے ذمے میں قضا شدہ نمازیں  چھ سے کم ہوں ،اس پر اپنی ترتیب برقرار رکھنے کے لیے لازم ہے کہ  وتر کی قضا فجر سے پہلے  قضا کرےپھر فجر پڑھے، البتہ اگر وقت کم ہو یا بھول کر پہلے فجر کی نماز پڑھ لی ہو یا اس کی قضاء نمازیں چھ  یا اس سے زائد ہوں ٗ تو ترتیب ساقط ہو جائے گی ،فجر کے بعد وتر کی قضا کر سکتا ہے۔

فتاوی عالم گیری میں ہے:

" كل صلاة فاتت عن الوقت بعد وجوبها فيه يلزمه قضاؤها سواء ترك عمدا أو سهوا أو بسبب نوم وسواء كانت الفوائت كثيرة أو قليلة  ..... والقضاء فرض في الفرض وواجب في الواجب سنة في السنة ثم ليس للقضاء وقت معين بل جميع أوقات العمر وقت له إلا ثلاثة، وقت طلوع الشمس، ووقت الزوال، ووقت الغروب فإنه لا تجوز الصلاة في هذه الأوقات، كذا في البحر الرائق."

(کتاب الصلاۃ، الباب الحادي عشر في قضاء الفوائت،ج1،ص121،ط: رشیدیہ)

الدر المختار میں ہے :

"(الترتيب بين الفروض الخمسة والوتر أداء وقضاء لازم) يفوت الجواز بفوته....(فلم يجز) تفريع على اللزوم (فجر من تذكر أنه لم يوتر) لوجوبه عنده."

(‌‌كتاب الصلاة،‌‌باب قضاء الفوائت،ج2،ص65،ط:سعید)

ــفقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144504102011

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں