بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو القعدة 1445ھ 26 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

پی سی (pc) ایپ کے ذریعے کاروبار کر نے کا حکم


سوال

مسئلہ یہ ہے کہ موبائل / فون میں ایک ایپس (Apps) ہیں اور اس کا نام ہے پی سی( Pc)، جب ہم ایپس کو استعمال کرتے ہیں، تو اس میں پہلے آئیڈی بناتے ہیں، پھر اکاؤنٹ بناتے ہیں، جب اکاؤنٹ بنتا ہے، تو 100 ڈالر پہلے اکاؤنٹ میں جمع کرنے پڑتے ہیں، اور ان 100 ڈالر سے پاکستانی 30000 روپے تقریباً بنتے ہیں، پھر اس میں ایک سٹور کھل جاتا ہے، اور اس میں ہر قسم کی اشیاء آپ کو دکھائے جاتے ہیں، مثلاً:  گھڑی، موبائل، فون وغیرہ اشیاء، اور ہرچیز کی قیمت مختلف ہوتی ہے، اور دوسری بات یہ کہ کہ آپ کو یہ دکھایا جاتا ہے کہ فلاں چیز کی قیمت اتنی ہیں، مثال کے طور پر ایک چیز 20 ڈالر پر ہیں، جب آپ اس کو فروخت کرتے ہیں تو 22 ڈالر پر فروخت کریں گے، یعنی 2 ڈالر آپ کا منافعہ ہیں، بلآخر میں نے 100 ڈالر کے اشیاء خرید لیے، تو میں ان چیزوں کو 3 دن یا 4 دن میں ضرور فروخت کروں گا، جب میں اپنے اکاؤنٹ کو 3 دن یا 4 دن بعد دیکھتا ہوں تو میرے اکاؤنٹ میں 12 ڈالر ہوتے ہیں، یعنی یہ میرا وہ منافعہ ہوتا ہے، تو کیا یہ بزنس جائز ہے یا کہ جائز نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ جو چیز فروخت کرنا مقصود ہو وہ بائع کی ملکیت میں ہونا شرعاً ضروری ہے، اگر ملکیت میں نہ ہو تو وہ بیع صحیح نہیں ہوتی ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں سٹور میں موجود چیز کی تصویر دکھلا کر آگے فروخت کیا جاتاہے، جوکہ ملکیت میں نہیں ہوتاہے، اس لیے اس طریقہ کار کے مطابق مذکورہ ایپ کے ذریعہ آن لائن بزنس کرنا اور اس پر نفع کمانا شرعاً جائز نہیں ہے۔

البتہ اس کی جائز صورت یہ ہے کہ  آپ کو جب آرڈر ملے تو آپ خریدار سے سودا کرنے کے بجائے یوں کہہ دیا کریں کہ یہ سامان اگر آپ کو چاہیے تو میں اسے خرید کر آپ کو اتنی قیمت میں فروخت کرسکتاہوں، پھر اگر وہ اس پر آمادہ ہوتا ہے، تو آپ مذکورہ ایپ سے وہ چیز خرید کر اپنے قبضے میں لینے کے بعد خریدار کو خود ڈیلور کریں یا ان کے ذریعے ڈیلور کریں، یعنی آپ یا آپ  کا کوئی وکیل اس چیز کو خرید کر اپنے  قبضہ میں لے، اس کے بعد خریدار سے باقاعدہ سودا کرکے اس کی جانب ڈیلور کردے، تو شرعاً یہ صورت جائز ہے۔

دوسری صورت یہ ہے کہ بجائے اشیاء کی خرید وفروخت کے مذکورہ ایپ کے ساتھ اپنی بروکری کی اجرت مقرر کرکے یہ معاملہ کریں، اس طور پر کہ آپ اشیاء کی تصاویر شیئر کرتے وقت اور آڈر لیتے وقت اس بات کی وضاحت کردیں کہ ہم  آپ کی چیز  فروخت کریں گے، فروخت شدہ چیز کی اصل قیمت مثلاً:20 ڈالرہے اوراس میں ہماری محنت کی  اجرت مثلاً:2 ڈالر ہوگی  وغیرہ، تو اس طرح اجرت طے کرنا بھی شرعاً جائز ہے۔

سنن ابو داود میں ہے:

"عن حكيم بن حزام، قال: يا رسول الله، ‌يأتيني ‌الرجل فيريد مني البيع ليس عندي، أفأبتاعه له من السوق؟ فقال: "لا تبع ما ليس عندك."

(كتاب الإجارة، باب في الرجل يبيع ما ليس عنده، ج: 2، ص: 1003، رقم: 3503، ط: بشري)

مرقا ۃ المفاتیح میں ہے:

"والثاني: ‌أن ‌يبيع ‌منه ‌متاعا لا يملكه ثم يشتريه من مالكه ويدفعه إليه وهذا باطل لأنه باع ما ليس في ملكه وقت البيع، وهذا معنى قوله: قال (لا تبع ما ليس عندك) أي شيئا ليس في ملكك حال العقد."

(كتاب البيوع، باب المنهي عنها من البيوع، الفصل الثاني، ج: 6، ص: 78، ط: رشيدية)

فتاوی شامی میں ہے:

"بطل)... بيع ما ليس في ملكه) لبطلان بيع المعدوم... (و) البيع الباطل (حكمه عدم ملك المشتري إياه).

وفي الرد: (قوله لبطلان بيع المعدوم) إذ من شرط المعقود عليه: أن يكون موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه."

(كتاب البيوع، ‌‌باب البيع الفاسد، ج: 5، ص: 59،58، ط: سعید)

‌فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإذا ‌عرفت ‌المبيع والثمن فنقول من حكم المبيع إذا كان منقولا أن لا يجوز بيعه قبل القبض."

(كتاب البيوع، الباب الثاني فيما يرجع إلى انعقاد البيع، الفصل الثالث في معرفة المبيع والثمن والتصرف فيهما قبل القبض، ج: 3، ص: 13، ط: دار الفكر)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144503102977

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں