بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

پھوپھا خالو سے پردہ کا حکم


سوال

1)پھوپھا اور خالو کے سامنے چہرہ کھول سکتے ہیں جب کہ فتنے والی کوئی بات نہیں  یا پھر اُن سے بھی اسی طرح پردہ ہے جیسے چچا زاد سے پردہ ہے؟

2) پھوپھا اور خالو سے سلام کرنا کیسا ہے؟

3) پھوپھا اور خالو سر پر شفقت سے ہاتھ رکھتے ہیں تو  کیا یہ جائز ہے؟

4) میرے 1 خالو میرے ہونے والے سسر ہیں تو  کیا ان سے بھی چہرے کا پردہ ہے، ابھی نکاح نہیں ہوا ہے؟

جواب

خالو اور پھوپھا دونوں شرعاً غیر محارم ہیں ، ان کے سامنے بھی چہرہ کھولنا اور بے تکلفی اختیار کرنا اور مصافحہ کرنا درست نہیں ہے، ان سے بھی کم از کم چادر کا پردہ کرنا ضروری ہے جس طرح دیگر غیر محارم اقارب مثلاً  چچازاد اور بہنوئی وغیرہ سے پردہ کرنا ضروری ہے۔

نکاح کے بعد خالو محرم بن جائیں گے اس سے پہلے غیر محرم ہیں ، پھوپھا اور خالو  اگر بڑی عمر کے ہیں، عورت کے سر پر چادر ، برقع وغیرہ ہو اور خلوت بھی نہ ہو تو دیگر محارم وغیرہ کی موجودگی میں ازراہِ شفقت سر پر ہاتھ رکھنے کی گنجائش ہوگی، لیکن موجودہ فتنہ کے دور میں احتیاط ہی کرنا چاہیے، سر پر ازراہِ شفقت اگر ہاتھ رکھوانا ہو تو والدین، دادا دادی و دیگر محارم سے رکھوایا جائے.

طبرانی میں بروایت حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان منقول ہے:

’’اپنے سر کو لوہے کے  کنگھے سے زخمی کرنا بہتر ہے اس بات سے کہ وہ نا محرم خاتون کو چھوئے‘‘۔

"عن معقل بن يسار رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لأن يُطعن في رأس أحدكم بمخيط من حديد خير له من أن يمسّ امرأة لاتحلّ له." رواه الطبراني". (صحيح الجامع 5045)

بخاری شریف کی روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ آنے والی خواتین کا سورہ تحریم کی آیت کے مطابق امتحان لیتے، ( کہ وہ کہیں اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی اور مقصد سے تو ہجرت کرکے نہیں آئیں) جب وہ امتحان پر پوری اتر آتیں تو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کہتے کہ میں نے تمہیں زبانی بیعت کرلی ہے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ بخدا رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت میں بھی کسی خاتون کو ہاتھ نہیں لگایا۔

صحیح بخاری کی روایت  میں ہے  کہ "مَا مَسَّتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَ امْرَأَةٍ إِلا امْرَأَةً يَمْلِكُهَا"،  یعنی آپ ﷺ کے دستِ مبارک نے کسی عورت کے ہاتھ کو چھوا تک نہیں ہے۔

صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی نے کسی عورت (نا محرم) کی ہتھیلی کو نہیں پکڑا۔ (صحیح مسلم 3470) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107201026

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں