بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 رمضان 1442ھ 06 مئی 2021 ء

دارالافتاء

 

فوٹو گرافی کے ذریعہ کمائی کا حکم


سوال

فوٹو گرافی اور شادی بیاہ کی ویڈیوز  کی ایڈیٹنگ کر کے  پیسے کمانا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ  جاندار کی تصویر سازی ناجائز ہے؛  لہذا  اس کے ذریعہ  حاصل شدہ اجرت بھی حرام ہے، اور تصویر کی ایڈیٹنگ تصویر سازی میں شامل ہے۔

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

"عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "«أشد الناس عذابًا يوم القيامة الذين يضاهون بخلق الله» ". متفق عليه.

(بخلق الله): أي يشابهون عملهم التصوير بخلق الله. قال القاضي: أي يفعلون ما يضاهي خلق الله أي مخلوقه، أو يشبهون فعلهم بفعله، أي في التصوير والتخليق."

(کتاب اللباس باب التصاویر ج نمبر ۷ ص نمبر ۲۸۵۱،دار الفکر)

فتاوی شامی میں ہے:

"«وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها اهـ فينبغي أن يكون حراما لا مكروها إن ثبت الإجماع أو قطعية الدليل بتواتره»."

(کتاب الصلاۃ باب ما یفسد الصلاۃ ج نمبر ۱ ص نمبر ۶۴۷،ایچ ایم سعید)

المحيط البرهاني في الفقه النعماني میں ہے:

"«وقال أبو حنيفة: لاتجوز الإجارة على شيء من اللهو والمزامير والطبل وغيره؛ لأنها معصية والإجارة على المعصية باطلة»."

(کتاب الاجارات فصل خامس عشر ج نمبر ۷ ص نمبر ۴۸۴،دار الکتب العلمیہ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144207200195

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں