بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 شوال 1443ھ 26 مئی 2022 ء

دارالافتاء

 

فون پر طلاق دینا


سوال

میں نے فون پر غصہ کی حالت میں اپنی بیوی کو یہ الفاظ  "طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں" تین مرتبہ استعمال کیے، اور میرا مقصد یہ تھا کہ میری بیوی  خاموش ہوجائے، اور ابھی میں اور میری بیوی  عدالت میں رجوع کرنا چاہتے ہیں۔ 

اب آیا یہ طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟ اور رجوع کرنا صحیح ہے یا نہیں؟ اور اگر  طلاق واقع ہوگئی ہے تو واپسی کی کیا صورت بنے گی؟

جواب

1۔صورتِ مسئولہ میں سائل نے اپنی بیوی کو "طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں" کے الفاظ فون پر کہے  جس سے سائل کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوگئیں اگرچہ سائل کا مقصد ان الفاظ سے اپنی بیوی کو خاموش کرنا ہو، اور سائل کی بیوی سائل پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی، اب نکاح ختم ہوگیا اور دوبارہ رجوع بھی نہیں ہوسکتا۔ مطلقہ اپنی عدت (پوری تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو، اگر حمل ہو تو بچہ کی پیدائش تک) گزار کر دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔

2۔دوبارہ ساتھ رہنے کی صرف یہ صورت ممکن ہے کہ بیوی طلاق کی عدت گزارکرکسی دوسرے مردکےساتھ نکاح کرےاوربوقت نکاح شوہرپرطلاق کی شرط عائدنہ کی جائے، نکاح کے بعد دوسرا شوہر حق زوجیت ادا کرے، اس کےبعد اگروہ  طلاق دے دیتاہےیا اس کا انتقال ہو جاتاہےتواس کی عدت گزارکریہ عورت پہلے شوہر کےساتھ نکاح کرسکتی ہے۔

فتاویٰ عالمگیریہ میں ہے:

"وإن كان الطلاق ثلاثا في ‌الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها."

(كتاب الطلاق، باب الرجعة، ج: 1، ص: 473، ط: دار الفكر بيروت)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(لا) ينكح (مطلقة) من نكاح صحيح نافذ (بها) أي بالثلاث (لو حرة وثنتين لو أمة) ولو قبل الدخول... (حتى يطأها غيره ولو) الغير (مراهقا) يجامع مثله... أو خصيا، أو مجنونا، أو ذميا لذمية (بنكاح) نافذ خرج الفاسد والموقوف."

(كتاب الطلاق، باب الرجعة، ج: 3، ص: 410، ط: دار الفكر بيروت)

ہدایہ میں ہے:

"وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة، أو ثنتين في الأمة: لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا، ويدخل بها، ثم يطلقها أو يموت عنها."

(كتاب الطلاق، فصل فيما تحل به المطلقة، ج: 2، ص: 132، ط: البشرى)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144309101520

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں