بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 شعبان 1445ھ 02 مارچ 2024 ء

دارالافتاء

 

فون پر تین طلاق دینا


سوال

میرے شوہر نے مجھے کال پر طلاق دی ہے اور اس کے الفاظ میں نےکچھ اس طرح سنے ہیں: طلاق،طلاق،طلاق اب جاؤ۔اور جب بعد میں میرے شوہر نے مجھے کال کی ہے تو اس نے کچھ اس طرح بیان دیا ہے کہ اگر تم گھر سے گئی تو طلاق،طلاق،طلاق تو اب جا ۔اورمیں اُسی وقت گھر سے چلی گئی تو پلیز اس بارے میں میری راہنمائی  فر مائیں  کہ ہماری طلاق ہوگئی  ہے  کہ نہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں  دونوں صورتوں میں سائلہ پرتینوں طلاقیں واقع ہوگئی ہیں ، پہلی صورت میں طلاق صریح ہونے کی وجہ سے اور دوسری صورت میں شرط کے پائے جانے کی وجہ سے نکاح ختم ہوگیاہےاوروہ حرمت مغلظہ کے ساتھ شوہرپرحرام ہوگئی ہے اب رجوع اور دوبارہ نکاح جائزنہیں ہے۔

قرآن مجید میں باری تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"{الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ... فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ}." [البقرة: 229، 230]

فتاوی عالمگیری میں ہے :

"و إن كان الطلاق ثلاثا في الحرة و ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا و يدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها، كذا في الهداية·"

(الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق،۱/ ۴۷۳ ط:رشیدیه)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"و إاذا أضافه إلی الشرط، وقع عقیبَ الشرط اتفاقاً، مثل أن یقول لامرأته: إن دخلت الدار، فأنت طالق".

( ۱/۴۸۸، الفصل الثالث في تعلیق الطلاق بکلمة إن و إذا و غیرها، (باب الأیمان في الطلاق، رشیدیة)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144405101452

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں