بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ربیع الاول 1442ھ- 30 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر دوسرہ شادی کرنا


سوال

میرے شوہر دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں اور وہ میرے حقوق ادا کر رہے ہیں اور مجہے یقین ہے کہ دوسری شادی کہ بعد بھی میرے حقوق ادا کریں گے لیکن میں پھر بھی اس پر راضی نھی کہ وہ دوسری شادی کریں ۔ تو میراسوال یہ ہے کیا انکو مجہ سے اجازت لینا ضروری ہے۔ یا میری اجازت کے بغير بھی وه دوسرى شادى كرسكتے ہیں اور كيا انكو شادى سے پہلے یہ بات بتانا ضروری تھا کہ وہ مستقبل میں دوسرى شادي كريں گے ۔ اور دوسرى شادی كے نقصانات اور فائدے كيا ہیں قران اورحديث كى روشنى ميں جواب دیں وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته

جواب

اللہ پاک نے ہر مرد کو چار تک شادیاں کرنے کی اجازت دی ہے بشرطیکہ تمام بیویوں میں مساوات اور برابری برقرار رکھی جائے، اللہ کی دی ہوئی اس اجازت کو اگر اس کی شرائط یعنی مساوات اور عدل کے اہتمام کے ساتھ پورا کیا جائے تو اس میں فائدہ ہی فائدہ ہے، نقصان صرف اس صورت میں ہوگا جب ایک سے زائد بیویوں میں ناانصافی اور ظلم کی روش اپنائی جائے، نیز اس اجازت پر عمل کرنے کے لئیے شوہر پہلی بیوی کو شادی سے پہلے بتانے یا بعد میں اجازت طلب کرنے کا شرعا پابند نہیں ہے اور نہ ہی بیوی کو اس پر اعتراض کا حق حاصل ہے، پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر بھی بلا کسی تردد کے شوہر دوسری شادی کرسکتا ہے۔ واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143602200008

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں