بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

روزے میں پیٹرول سونگھنے کا حکم


سوال

روزہ میں پیٹرول یا اس جیسی کوئی چیز سونگھ لی،تو روزے کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں پیٹرول سونگھنا ایک نشہ بن گیا ہے،اور  اگر  ناک میں رکھ کر نشہ کے طور پر سونگھا  جائے تو عام طور سے اس کے اجزاء جو بخارات کی صورت میں ہوتے ہیں ،جوفِ دماغ تک پہنچ جاتے ہیں، اور جوفِ دماغ تک کسی چیز کا پہنچ جانا مفسدِ صوم ہے، اس لیے پیٹرول کو  ناک میں رکھ کر سونگھنے سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔

خلاصۃ الفتاوی میں ہے:

"وماوصل  إلى جوف الرأس والبطن من الأذن والأنف والدبر فهو مفطر بالإجماع، و فيه القضاء، و هي مسائل الأقطار في الأذن و السعوط و الوجور و الحقنة، و كذا من الجائفة والآمة."

(خلاصة الفتاوى، الفصل الثالث، ج:1، ص: 253، ط: رشيدية)

بدائع الصنائع  فی ترتيب الشرائع میں ہے:

"وما وصل إلى الجوف أو إلى الدماغ عن المخارق الأصلية كالأنف والأذن والدبر بأن استعط أو احتقن أو أقطر في أذنه فوصل إلى الجوف أو إلى الدماغ فسد صومه، أما إذا وصل إلى الجوف فلا شك فيه لوجود الأكل من حيث الصورة.

وكذا إذا وصل إلى الدماغ لأنه له منفذ إلى الجوف... أو إلى الدماغ عن غير المخارق الأصلية بأن داوى الجائفة، والآمة، فإن داواها بدواء يابس لايفسد لأنه لم يصل إلى الجوف ولا إلى الدماغ ولو علم أنه وصل يفسد في قول أبي حنيفة."

(باب ارکان الصیام، ج: 2، ص: 93، ط: سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وفي دواء الجائفة والآمة أكثر المشايخ على أن العبرة للوصول إلى الجوف والدماغ لا لكونه رطبًا أو يابسًا حتى إذا علم أنّ اليابس وصل يفسد صومه، ولو علم أنّ الرطب لم يصل لم يفسد، هكذا في العناية."

( كتاب الصوم، الباب الرابع فيما يفسد و فيمالايفسد، النوع الأول ما يوجب القضاء دون الكفارة ، ج: 1، ص: 204، ط: رشيدية)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144309100471

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں