بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 رجب 1444ھ 03 فروری 2023 ء

دارالافتاء

 

پیشاب کرنے کے بعد قطروں کےآنے کا حکم


سوال

میرے ساتھ ایک مسئلہ ہے کہ میں جب پیشاب کرکے  کھڑا ہوتا ہوں تو پیشاب کا ایک قطرہ نکل جاتا ہے، بیٹھ کر جتنی کوشش کروں پیشاب بند ہوجاتا ہے اور قطرہ نہیں نکلتا، لیکن کھڑے ہو کر قطرہ نکل جاتاہے اور قطرہ نلی پر ہاتھ پھیرنے سے نکلتاہے ،کبھی سارا قطرہ نکل جاتا ہے اور کبھی نہیں نکلتا اور کھڑے ہو کر جب بیٹھ جاتا ہوں اس کو دھونے کے لیے تو  وہ شلوار پر بھی لگ جاتاہے اور کبھی جتنی کوشش کروں وہ قطرہ پورا نہیں نکلتا، لیکن چلتے ہوئے تری محسوس ہوتی ہے  اور قطرہ نکل جاتا ہے ،میں بہت پریشان ہوں ،نماز کے لیے دیر ہو جاتی ہے،نماز میں بھی خوف رہتا ہے کہ قطرہ تو نہیں نکل رہا،باتھ روم سے آکر بھی ڈر لگتاہے کہ کہیں قطرہ نکل نہ جائے اور اگر ٹھیک سے قطرہ  نہ نکلا ہو  تو چلتے ہوئےنکل جاتاہے ،میرے وضو کے لیے کیا حکم ہے؟ اگر نماز کے دوران مجھے قطرہ محسوس ہو اور بعد میں دیکھوں اور واقعی قطرہ ہو تو کیا کروں؟ نماز ہو گی؟ اور ہر دفعہ مجھے وضو کرنا ہوگا؟ براہ کرم راہ نمائی فرمائیں۔  

جواب

واضح رہے کہ  جس شخص کو پیشاب کے قطرے آتے ہوں یہ پیشاب کی بیماری تصور کی جاتی ہے، لیکن یہ شخص شرعاً معذوراس وقت شمار ہوگا جب کہ ایک نماز کا مکمل وقت اس حالت میں گزرے کہ وضو کرکے اس وقت کی فرض نماز پڑھنے کا وقت بھی اس عذر کے بغیر نہ ملے، اگر کسی بھی ایک نماز کا مکمل وقت اس کیفیت کے ساتھ گزر جائے تو ایسا شخص شرعی معذور کہلاتاہے، اس کے بعد ہر نماز کے وقت میں اگر ایک مرتبہ بھی یہ عذر پایا جائے تو آدمی معذور ہی رہتاہے، اور اگر کسی نماز کا مکمل وقت اس عذر کے بغیر گزر جائے تو پھر یہ آدمی معذور نہیں رہتا۔ اب اگرآپ کو یہ قطرے اس تسلسل سے آرہے ہیں کہ درمیان میں اتنا وقفہ بھی نہیں ملتا کہ ایک وقت کی فرض نماز ادا کر سکیں تو اس صورت میں آپ معذورین میں شامل ہیں، جن کا حکم یہ ہے کہ ہر فرض نماز کے وقت وضو کرلیا کریں اور پھر اس وضو سے اس ایک وقت میں جتنے چاہیں فرائض اور نوافل ادا کریں اور تلاوت قرآن کریم کرلیں (اس ایک وقت کے درمیان میں جتنے بھی قطرے آجائیں آپ پاک ہی رہیں گے بشرطیکہ وضو توڑنے کا کوئی اور سبب نہ پایاجائے)  یہاں تک کہ وقت ختم ہوجائے، یعنی جیسے ہی اس فرض نماز کا وقت ختم ہوگا تو آپ کا وضو بھی ختم ہوجائے گا اور پھر اگلی نماز کے لیے دوبارہ وضو کرنا ہوگا۔
اور اگر یہ قطرے کپڑوں پر گرے ہوئے ہوں تو اس صورت میں یہ دیکھا جائے گا کہ وہ کس تسلسل سے نکل رہے ہیں اگر اتنا بھی وقت نہ ملے کہ فرض نماز شروع کرنے سے پہلے کپڑے کو دھویا مگر دورانِ نماز وہ قطرے اسی طرح کپڑوں میں نکل آئیں تو اس صورت میں آپ پر ان قطروں کا دھونا واجب نہ ہوگا، اگرچہ یہ قطرے مقدارِ درہم سے تجاوزکرجائیں اور اگر آپ کو یہ گمان ہے کہ ان قطروں کو دھونے کے بعد دورانِ نماز مزید نہ نکلیں گے تو اس صورت میں ان کا دھونا واجب ہوگا۔

اور اگر ان قطروں میں مقدارِ نماز کے برابر تسلسل نہیں ہے یعنی کچھ دیر تک پیشاب کے قطرے آنے کے بعد بند ہوجاتے ہیں یا درمیان میں اتنا وقفہ ہوجاتا ہے کہ جس میں فرض نماز ادا کی جاسکتی ہے  تو آپ شرعاً معذورین میں شامل نہیں ہیں۔ اس صورت میں آپ کا وضو اِن قطروں سے ٹوٹ جائے گا اور کپڑے بھی ناپاک ہوجائیں گے اور ان کا دھونا (جب کہ وہ مقدارِ درہم سے تجاوز کرجائیں) واجب ہوگا۔ اس صورت میں آپ پانی پینے کی ترتیب تبدیل کریں، اور جب نماز کا وقت قریب ہو تو پیشاب نہ کریں، بلکہ نماز کے بعد یا نماز سے کافی پہلے پیشاب سے فارغ ہوں، اور جب بھی پیشاب سے فارغ ہوں تو انڈرویئر میں ٹشوپیپر رکھ لیا کریں، جب نماز کا وقت آئے تو ٹشو تبدیل کرکے وضو کرکے نماز ادا کرلیں، یا نماز کے لیے الگ پاک کپڑے کا انتظام رکھیں، پھر بھی اگر نماز کے وقت پہنے ہوئے کپڑوں میں قطرے نکل آئیں تو اس کو پاک کر کے وضو کرکے نماز دہرا لیں۔

فتاویٰ عالمگیریہ میں ہے:

"شرط ثبوت العذر ابتداءً أن یستوعب استمراره وقت الصلاة کاملاً، وهو الأظهر، کالانقطاع لایثبت مالم یستوعب الوقت کله ........... المستحاضة ومن به سلس البول ............ یتوضؤن لوقت کل صلاة، ویصلون بذلک الوضوء في الوقت ماشاؤا من الفرائض و النوافل ............ ویبطل الوضوء عند خروج وقت المفروضة بالحدث السابق ........... إذا کان به جرح سائل وقد شد علیه خرقةً فأصابها الدم أکثر من قدر الدرهم، أو أصاب ثوبه إن کان بحال لوغسله یتنجس ثانیاً قبل الفراغ من الصلاة، جاز أن لا یغسله وصلی قبل أن یغسله وإلا فلا، هذا هو المختار."

(کتاب الطہارۃ،الفصل الرابع فی احکام الحیض والنفاس والاستحاضۃ، 41،40/1 رشیدیہ )

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144310101400

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں