بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

perRankایپ کے ذریعے کمائی کرنے کا حکم


سوال

ایک اپلیکیشن آئی  ہے، perRank نام ہے، وہ 300 ڈالر انشورنس لیتی ہے اور 180دن کیلئے اپلیکیشن کام کرتی ہے اور وہ ہر دن کے  15 اشتہار دیتی  ہے اور ایک اشتہار کو submit کرنے پر 1ڈالر ملتا ہے، اگر اشتہار submit نہ کیا تو کوئی ڈالر نہیں ملتا ہے  اور اشتہارات میں انگوٹھی گنگن ہار جوتے وغیرہ اور الیکٹرانک سامان ہوتا ہے  اور یہ جو 300 ڈالر انشورنس رکھا ہے وہ 180 دن کے بعد واپس کریں  گے وہ بولتے ہیں کہ یہ تمھاری جاب ہے ، اس لئیے انشورنس 300 ڈالر لیے ہیں ،میں نے ان سے دو تین سوال انگریزی میں پوچھے ہیں ،انہوں نے یہ جواب دیا ہے وہ میں آپ کو ارسال کرتا ہوں Ibrahim: Why do you guys collect 300$ PerRank-Alice: 300USD is your work insurance, in order to supervise your work. It will be refunded to your account when you have completed 180 days of work. Ibrahim: What we submit is what happens. PerRank-Alice: Once you submit an image, you complete an order, and our job is to help any merchant increase exposure آپ ہمیں تفصیل سے جلدی رہنمائی کریں ، اگر perRank سے پیسے کمانا ٹھیک نہیں ہے تو ہم اپنے 300 ڈالر تو واپس کرسکتے ہیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ کمپنی کے ساتھ کام کرنا مندرجہ ذیل وجوہات سے ناجائز ہے :

1: جان دار کی تصویر  کسی بھی طرح کی ہو اس کا دیکھنا جائز نہیں۔لہذا اس پر جو اجرت  لی جائے گی وہ بھی جائز نہ ہوگی۔

2:ان اشتہارات میں  خواتین کی تصاویر بھی ہوتی ہیں جن کا دیکھنا بدنظری کی وجہ سے مستقل گناہ ہے۔

3: نیز اشتہار  پر کلک ایسی چیز نہیں ہے جو منفعت مقصودہ ہے، اس لیے یہ اجارہ صحیح نہیں ہے۔

4: اس اجارہ کے معاملہ میں عمل  (کلک کی مجموعی تعداد) اور وقت (کلک کرنے کی مدت ) دونوں پر اجارہ ہوتا ہے، جس کی وجہ سے یہ معاملہ فاسد ہے۔

5:نیز اس ایپ میں کام کرنے پر انشورنس کا معاملہ بھی کرنا پڑتا ہے اور   انشورنس کے اندر  "سود" کے ساتھ " جوا" بھی پایا جاتا ہے، اور اسلام میں یہ دونوں حرام ہیں، ان کی حرمت قرآنِ کریم کی واضح اور قطعی نصوص سے ثابت ہے، کسی زمانے کی کوئی مصلحت اس حرام کو حلال نہیں کرسکتی۔اسی طرح اس میں  جہالت اور غرر ( دھوکا) بھی  پایا جاتا ہے،  اور جہالت اور غرر والے معاملہ کو شریعت نے  فاسد قرار دیا ہے، لہذا کسی بھی قسم کا  انشورنس کرنا  اور کرانا اور انشورنس کمپنی کا ممبر بننا شرعاً ناجائز  اور حرام ہے۔

6: نیز اس معاملے میں جس طریق پر اس سائٹ کی پبلسٹی کی جاتی ہے جس میں پہلے اکاؤنٹ بنانے والے کوہر نئے اکاؤنٹ بنانے والے پر کمیشن ملتا رہتا ہے جب کہ  اس نے  دیگر افراد کے نئےاکاؤنٹ بنوانے میں کوئی عمل نہیں کیا ، بلا عمل کمیشن لینے کا معاہدہ کرنا اور  اس پر اجرت لینا بھی جائز نہیں۔ شریعت میں بلا  محنت کی کمائی   کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے اور  اپنی محنت   کی کمائی   حاصل کرنے کی ترغیب ہے  اور اپنے ہاتھ کی کمائی کو افضل کمائی قراردیا ہے ۔حدیث شریف میں ہے:

شعب الایمان میں ہے:

"عن سعيد بن عمير الأنصاري، قال: سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم أي الكسب أطيب؟ قال: " عمل الرجل بيده، وكل بيع مبرور."

(كتاب الإيمان،التوكل بالله عزوجل و التسليم لأمره تعالي في كل شيئ،434/2،ط:مكتبة الرشد،رياض)

ترجمہ:آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا گیا  کہ سب سے پاکیزہ کمائی کو ن سی ہے؟تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ  آدمی کا  خود  اپنے ہاتھ سے محنت کرنا اور ہر جائز اور مقبول بیع۔

علامہ طیبی رحمہ اللہ نے  شرح مشکوۃ میں مبرور کایہ  معنی بیان کیا ہے:

" قوله: ((مبرور)) أي مقبول في الشرع بأن لا يكون فاسدًا، أو عند الله بأن يكون مثابًا به."

(كتاب البيوع،باب الكسب و طلب الحلال،2112/7،ط:مكتبة نزار مصطفى الباز مكة المكرمة )

 لہٰذا  حلال کمائی کے لیے کسی بھی  ایسے طریقے کو اختیار کرنا چاہیے  کہ جس میں اپنی محنت شامل ہو ایسی کمائی زیادہ بابرکت ہوتی ہے۔    

فتاوی شامی میں ہے:

"مطلب في أجرة الدلال ، قال في التتارخانية : وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل ، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم .وفي الحاوي : سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار ، فقال : أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسداً؛ لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز ، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام".

(كتاب الإجارة،مطلب في أجرة الدلال،63/6،ط: سعيد)

موسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے:

"الإجارة على المنافع المحرمة كالزنى والنوح والغناء والملاهي محرمة، وعقدها باطل لا يستحق به أجرة . ولا يجوز استئجار كاتب ليكتب له غناءً ونوحاً ؛ لأنه انتفاع بمحرم ... ولا يجوز الاستئجار على حمل الخمر لمن يشربها ، ولا على حمل الخنزير". 

(كتاب الإجارة ،الإجارة علي المعاصي و الطاعات،290/1،ط:وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية۔الكويت)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144310101500

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں