بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1444ھ 03 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

پنشن، جی پی فنڈ، بینوولنٹ فنڈ، فنانس اسسٹنٹ فنڈ میں وراثت کا حکم


سوال

میں  والدین کا اکلوتا بیٹا ہوں ،میری ایک ماں اور آٹھ بہنیں ہیں، میرے والد صاحب کادوران سروس انتقال ہوا ہے، اب پنشن ، جی پی فنڈ، بینوولنٹ فنڈ ،فنانس اسسٹنٹ فنڈ  میں وراثت کا کیا طریقہ کار ہوگا؟  پنشن میں سب فیملی لسٹ  جمع کروادی تھی۔

جواب

صورت مسئولہ میں اگر سائل کے والد مرحوم کے والدین کا انتقال والد سے پہلے ہی انتقال ہوگیا تھا  تو اب والد مرحوم کی میراث کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ  سب سے پہلے مرحوم کے حقوق متقدمہ(تجہیزو تکفین کے اخراجات )ادا کرنے کے بعد ،اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو کل مال سے ادا کرنے کے  بعد،اور مرحوم نے اگر کوئی جائز وصیت کی ہو تو باقی  مال کے تہائی  حصہ میں سے  اسے  نا فذ کرنے کے بعد  باقی تمام ترکہ    منقولہ و غیر  منقولہ کو 80 حصوں میں تقسیم کر کے بیوہ(والدہ) کو10 حصے،بیٹے کو14 حصے اور ہر ایک بیٹی کو7 حصے ملیں گے۔

صورتِ تقسیم یہ ہے:

میت:80/8۔۔والد مرحوم

بیوہ بیٹابیٹیبیٹیبیٹیبیٹیبیٹیبیٹیبیٹیبیٹی
17
101477777777

یعنی فیصد کے اعتبار سے بیوہ کو 12.50فیصد،بیٹے کو 17.5فیصد اور ہر ایک بیٹی کو8.75 فیصد ملے گا۔

واضح رہے کہ  حکومتی ملازم  جب ریٹائر ہوتا ہے  تو اس کو گریجویٹی اور پینشن کے نام سے کچھ رقم ملتی ہے،یہ رقم تنخواہ کا حصہ نہیں ہوتی، بلکہ  ادارہ کی طرف سے ملازم کے لئے  انعام و عطیہ ہوتی ہے اور اس سے مقصد ملازم کی  خدمت کا اعتراف  اور  اس کی مالی مدد کرنا  ہوتا ہے،یہ رقم  ریٹائرمنٹ کے وقت سے ہی دو حصوں میں تقسیم  کر دی جاتی ہے،اس میں سےکچھ  رقم فوراً  ملازم کو دے دی جاتی ہے، جسے "گریجویٹی"  کہا جاتا ہے اور وہ ملازم کی ملکیت اور ترکہ   شمار ہوکر تمام ورثاء میں ان کے  شرعی حصوں کے تناسب سے تقسیم ہوتی ہے، اور کچھ  رقم    ملازم کو  ہر ماہ  ملتی رہتی ہے  جسے"    پینشن "  کہا جاتا ہے ، پینشن  کی جو رقم زندگی میں مل جائے وہ  بھی مرحوم کا ترکہ شمار ہوکر تمام ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے تناسب سے تقسیم  ہوتی ہے،البتہ   جو رقم  انتقال  کے بعد  ملے،  وہ  نامزد شدہ شخص کی  ملکیت شمار ہوتی ہے  اور  نامزد  نہ کرنے صورت میں جس کو ملے اسی کی ملکیت شمار ہوتی ہے۔اسی طرح بینوولنٹ فنڈاورفنانس اسسٹنٹ فنڈ بھی  متعلقہ ادارے کی طرف سے جس کو ملے اس کی ملکیت شمار ہوتا ہے،مرحوم کے ترکہ  میں شمار ہوکر تمام ورثاء میں تقسیم نہیں ہوتا۔نیز جی پی فنڈ   جس کا مرحوم اپنی زندگی میں قانونی طور پر اس طرح حق دار ہوجائے کہ  وہ ان کا مطالبہ کرسکتا ہو تو اس میں   بھی وراثت جاری ہوتی ہے اور وہ تمام ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے تناسب سے تقسیم ہوتا ہے۔

مذکورہ تفصیل کی رو سے صورت مسئولہ میں پینشن کی جو رقم والد مرحوم کو زندگی میں مل گئی تھی یا اس کے وہ حق دار ہوگئے تھے،اسی طرح جی پی فنڈ والد مرحوم کے  تمام ورثاء میں مذکورہ بالا  شرعی  حصوں کے تناسب سے تقسیم ہوگا اور جو پینشن ،بینوولنٹ فنڈ اورفنانس اسسٹنٹ فنڈ مرحوم کے انتقال کے بعد ورثاء میں سے نامزد شدہ اشخاص کو  ملیں  گے، وہ انہی کی ملکیت شمار ہوگی،تمام ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے تناسب سے تقسیم نہیں ہوں گے۔

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام میں ہے:

"المادة (2 9 0 1) - (كما تكون أعيان المتوفى المتروكة مشتركة بين وارثيه على حسب حصصهم كذلك يكون الدين الذي له في ذمة آخر مشتركا بين وارثيه على حسب حصصهم) كما تكون أعيان المتوفى المتروكة مشتركة بين - وارثيه، على حسب حصصهم الإرثية بموجب علم الفرائض أو بين الموصى لهم بموجب أحكام المسائل المتعلقة بالوصية كذلك يكون الدين الذي له في ذمة آخر مشتركا بين ورثته على حسب حصصهم الإرثية أو بين الموصى لهم بموجب الوصية لأن هذا الدين ناشئ عن سبب واحد الذي هو الإرث أو الوصية."

(الکتاب العاشر الشرکات،الباب الاول،3/ 55،ط:دار الجلیل)

الفقه الإسلامي وأدلته میں ہے:

‌‌"الإرث لغة: بقاء شخص بعد موت آخر بحيث يأخذ الباقي ما يخلفه الميت. وفقهاً: ما خلفه الميت من الأموال والحقوق التي يستحقها بموته الوارث الشرعي."

(الفصل الاول، تعریف علم المیراث،10/ 7697،ط:دار الفکر)

فتاوی شامی میں ہے:

"(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل......"

(کتاب الهبة،5/ 690،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144309101047

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں