بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 جنوری 2021 ء

دارالافتاء

 

پینٹ شرٹ پہننا


سوال

کسی عالمِ دین کے لیے پینٹ شرٹ پہننا کیسا ہے؟ جب کہ وہ ایک ایسے ادارے میں نوکری کر رہا ہو جہاں یہ لباس پہننا حکومت کی طرف سے لازمی قرار دیا گیا ہے؟

جواب

 اگر پینٹ شرٹ اس طرح بنائی گئی ہو کہ اس سے جسم کی ساخت  واضح نہ ہوتی ہو اور ستر نہ کھلتا ہو تو ایسی صورت میں اس کا پہننا جائز ہے، تاہم پینٹ شرٹ صالحین کا لباس نہیں ہے،  اس لیے پینٹ شرٹ پہننا  ناپسندیدہ ہے، حتی الامکان اس لباس سے پرہیز کرنا چاہیے۔

اگر کسی کو ملازمت  یا تعلیمی ادارے میں شرط کی مجبوری کی وجہ سے اس کو پہننا پڑے اور دل میں اس کو اچھا نہ جانے تو اس وقت بوجہ مجبوری محض وقتِ ملازمت میں اس کے پہننے کی گنجائش ہے، لیکن اس وقت پتلون ایسی ڈھیلی بنائی جائے جو کہ اعضاء کو اچھی طرح چھپائے، نیز ٹخنے سے اوپر سے اوپر رہے،  ٹخنے سے نیچے لٹکانا اس صورت میں بھی جائز نہیں ہے۔

یہ حکم ایک عام شخص کے لیے ہے اور اگر کوئی عالم فاضل ہے جس کے عمل سے لوگ سند پکڑتے ہیں تو اسے پینٹ شرٹ  پہننے سے بہرصورت احتیاط کرنی چاہیے۔

لما في رد المحتار:

"(قوله: لايصف ما تحته) بأن لايرى منه لون البشرة احترازاً عن الرقيق ونحو الزجاج (قوله: ولايضر التصاقه) أي بالألية مثلاً، (وقوله: وتشكله) من عطف المسبب على السبب. وعبارة شرح المنية: أما لو كان غليظًا لايرى منه لون البشرة إلا أنه التصق بالعضو وتشكل بشكله فصار شكل العضو مرئياً فينبغي أن لايمنع جواز الصلاة؛ لحصول الستر. اهـ. قال ط: وانظر هل يحرم النظر إلى ذلك المتشكل مطلقاً أو حيث وجدت الشهوة؟ اهـ. قلت: سنتكلم على ذلك في كتاب الحظر، والذي يظهر من كلامهم هناك هو الأول".  (1/410، ط: سعيد)

لما في رد المحتار، الحظر والإباحة:

"وعلى هذا لايحل النظر إلى عورة غيره فوق ثوب ملتزق بها يصف حجمها فيحمل ما مر على ما إذا لم يصف حجمها، فليتأمل". (6/366، ط: سعيد)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144205201436

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں