بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1445ھ 27 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

پینشن کی میعادی رسید نقد رقم پر لینے کا حکم


سوال

اس وقت کراچی اور دیگر بڑے شہروں میں ایک پبلک کمپنی کام کر رہی ہے ان کا کام یہ ہوتا ہے، کہ لوگوں سے پینشن کی رسیدیں خریدتے ہیں اور بینک کے میعادی چیک نقد پر خریدتے ہیں اور اس پر دن اور فیصد کے حساب سےکمیشن لیتے ہیں، کیا ان کے ساتھ مذکورہ معاملہ کرنا یا ان کے ایجنٹ کے طور پر کام کرنا درست ہے کہ نہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں مذکورہ معاملہ چوں کہ"بیع صرف" ہے، اس لئے کہ اس معاملہ میں بھی ایک جانب سے  چیک ہے اور دوسری جانب سے  نقد روپے ہیں ، اور ایک طرف رقم زیادہ ہے اور دوسری جانب کم، ایک جانب سے ادائیگی نقد ہے اور دوسری جانب سے ادھار اور دونوں جانب سے روپے کا تبادلہ ہوا، کیونکہ چیک میں بھی کاغذ مقصود نہیں ہوتا بلکہ اس میں لکھی ہوئی رقم ہی مقصود ہوتی ہے، لہذا مذکورہ صورت میں شرعًا دونوں طرف سے دیا جانے والا عوض کا برابر اور نقد ہونا ضروری ہے، اگر عوض برابر اور نقد نہیں ہوگا تو یہ معاملہ قطعًا حرام اور سود پر مبنی ہونے کی وجہ سے  بالاتفاق ناجائز ہوگا،اور اس طرح ان  لوگوں کے ساتھ بطورِ  ایجنٹ کا م کر نابھی صحیح نہیں ہے۔

صحیح  مسلم  میں ہے:

"عن عبادة بن الصامت، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الذهب بالذهب، والفضة بالفضة، والبر بالبر، والشعير بالشعير، والتمر بالتمر، والملح بالملح، مثلًا بمثل، سواء بسواء، يدا بيد، فإذا اختلفت هذه الأصناف، فبيعوا كيف شئتم، إذا كان يدًا بيد."

(کتاب المساقاة والمزارعة، باب الصرف وبيع الذهب بالورق نقدا، ج:2، ص:25، ط: قدیمی)

البحر الرائق میں ہے:

"(فلو تجانسا شرط التماثل والتقابض) أی النقدان بأن بیع أحدهما بجنس الآخر فلا بد لصحته من التساوی وزناً ومن قبض البدلین قبل الافتراق."

(کتاب الصرف: ج:6، ص:192، ط:سعید)

ہدایہ میں ہے:

"وإذا وجدا (الوصفان )حرم التفاضل والنساء؛ لوجود العلة."

(کتاب البیوع، باب الربا، ج:3، ص: 83، ط: رحمانیه)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144501100309

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں