بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو القعدة 1445ھ 18 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

پینشن کی شرعی حیثیت


سوال

پینشن کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ ملازمین یا ان کے  انتقال بعد ان کے لواحقین کو  ملنے والی پینشن کی رقم   حکومت  یا متعلقہ ادارہ کی طرف سے عطیہ اور تبرع ہوتی ہے؛ لہذا پینشن کی رقم ادارہ جس کے نام پر جاری کرے اس کے لیے اس کا وصول کرنا اور اس کو اپنے استعمال میں لانا جائز ہے، بشرطیکہ پینشن دینے والا ادارہ سودی یا حرام کمائی والا ادارہ نہ ہو۔

پینشن کی رقم چوں کہ حکومت یا متعلقہ ادارہ کی طرف سے عطیہ ہوتی ہے؛ اس لیے اس میں وراثت جاری نہیں ہوگی، بلکہ یہ حکومت یامتعلقہ  ادارہ جس کے نام پر جاری کرے وہی اس کامالک ہوگا۔

شرح المجلۃ  لسلیم رستم  باز میں ہے:

"الهدية هي المال الذي يعطى لأحد أو يرسل إليه إكراما له."

(الكتاب السابع في الهبة، المادة: 834، 366/1، ط: رشيدية)

امداد الفتاوٰی میں ہے:

"چوں کہ میراث مملوکہ اموال میں جاری ہوتی ہے اور یہ وظیفہ محض تبرع واحسانِ سرکار ہے، بدون قبضہ کے مملوک نہیں ہوتا، لہذا آئندہ جو وظیفہ ملے گا اس میں میراث جاری نہیں ہوگی، سرکار کو اختیار ہے جس طرح چاہیں تقسیم کردے۔"

( کتاب الفرائض، عنوان: عدم جریان میراث در وظیفہ سرکاری تنخواہ، 4/343،  ط:  دارالعلوم)

احکامِ میت میں ہے:

"پینشن جب تک وصول نہ ہوجائے ملک میں داخل نہیں ہوتی، لہٰذا میت کی  پینشن کی جتنی رقم اس کی موت کے بعد وصول ہو وہ ترکہ میں شمار نہ ہوگی، کیوں کہ ترکہ وہ ہوتا ہے جو میت کی وفات کے وقت اس کی ملکیت  میں ہو، اور یہ رقم اس کی وفات تک اس کی ملکیت میں نہیں آئی تھی؛ لہٰذا ترکہ میں جو چار حقوق واجب ہوتے ہیں وہ اس رقم میں واجب نہیں ہوں گے، اور میراث بھی اس میں جاری نہ ہوگی، البتہ حکومت (یا وہ کمپنی جس سے پینشن ملی ہے) جس کو یہ رقم دے دے گی وہی اس کا مالک ہوجائے گا؛ کیوں کہ یہ ایک قسم کا انعام ہے، تنخواہ یا  اجرت نہیں، پس اگر حکومت یا کمپنی  یہ رقم میت کے کسی ایک رشتہ دار کی ملکیت کردے تو وہی اس کا تنہا مالک ہو گا  اور اگر سب وارثوں کے واسطے دے تو سب وارث آپس میں تقسیم کرلیں گے۔۔۔الخ۔"

(احکام میت، ص: 135۔136،ط:ادارۃ المعارف )

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144404100328

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں