بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شوال 1445ھ 23 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

پہلے کئی مرتبہ عمرہ کرنے والے شخص کے لیے نفلی عمرہ کی رقم غریبوں کو صدقہ کرنے کا حکم


سوال

 میں سعودی عرب میں کام کرتا ہوں اور میں نے چار  بار عمرہ کیا ہے،  اس بار میں نے سوچا کہ عمرہ پر جتنا خرچ آتا ہے ،وہ ساری رقم پاکستان میں غریب اور نادار لوگوں کو دے دوں ،اور کچھ رقم مدارس میں دے دوں ،کیا ایسا کرنا ٹھیک ہےیا نہیں؟

جواب

نفلی حج یا عمرہ کرنا   بھی بہت عظیم سعادت اور نیکی کا کام ہے،لیکن اسی طرح مساجد ومدارس  میں خرچ کرنا اور غرباء  ومساکین کی امدادوتعاون  بھی بہت بڑی خیر کا حامل ہے، سارے ہی نیکی کے کام ہیں، اب ان میں سے کس کو ترجیح دینی چاہیے؟ اس میں کچھ تفصیل ہے، وہ یہ کہ ان کاموں میں سے جس کی ضرورت زیادہ ہو اُس میں زیادہ ثواب ہو گا، یعنی اگر محلہ کی مسجد کی تعمیر کے لیے پیسوں کی کمی کی وجہ سے ضرورت زیادہ ہو، تو اس مسجد کی تعمیر میں پیسے خرچ کرنا زیادہ افضل ہوگا،اسی طرح اگر کہیں اِحیاءِ دین  کے لیے مدارس کی ضرورت ہے،  یا مدارس کے طلباء زیادہ محتاج ہیں تو  ان کو صدقہ کرنا زیادہ افضل ہوگا اور اگر کسی جگہ فقراء زیادہ ضرورت مند یااقرباء ہوں یا نیک صالح یا سادات میں سے ہوں تو ان پر خرچ کرنا اور ان کا اکرام کرنا دیگر کاموں سے زیادہ افضل ہوگا۔

الغرض مذکورہ مصارف میں خرچ کرنا نفلی عمرہ کرنے سے بہتر ہوگا جبکہ سائل چار مرتبہ نفلی عمرہ کرچکا ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"قال الرحمتي: والحق التفصيل، فما كانت الحاجة فيه أكثر والمنفعة فيه أشمل فهو الأفضل، كما ورد: «حجة أفضل من عشر غزوات». وورد عكسه، فيحمل على ما كان أنفع، فإذا كان أشجع وأنفع في الحرب فجهاده أفضل من حجه، أو بالعكس فحجه أفضل، وكذا بناء الرباط إن كان محتاجاً إليه كان أفضل من الصدقة وحج النفل وإذا كان الفقير مضطراً أو من أهل الصلاح أو من آل بيت النبي صلى الله عليه وسلم فقد يكون إكرامه أفضل من حجات وعمر وبناء ربط. كما حكى في المسامرات عن رجل أراد الحج فحمل ألف دينار يتأهب بها فجاءته امرأة في الطريق وقالت له: إني من آل بيت النبي صلى الله عليه وسلم وبي ضرورة فأفرغ لها ما معه، فلما رجع حجاج بلده صار كلما لقي رجلاً منهم يقول له: تقبل الله منك، فتعجب من قولهم، فرأى النبي صلى الله عليه وسلم في نومه وقال له: تعجبت من قولهم تقبل الله منك؟ قال: نعم، يا رسول الله؛ قال: إن الله خلق ملكاً على صورتك حج عنك؛ وهو يحج عنك إلى يوم القيامة بإكرامك لامرأة مضطرة من آل بيتي؛ فانظر إلى هذا الإكرام الذي ناله لم ينله بحجات ولا ببناء ربط".

(كتاب الحج، فروع في الحج،مطلب في تفضيل الحج على الصدقة،ج:2،ص:621، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144507100270

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں