بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 محرم 1444ھ 18 اگست 2022 ء

دارالافتاء

 

پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کرنا


سوال

میری بیوی کو بغیر کسی شرعی و قانونی عذر کے میرے سسرال والوں نے 06 فروری 2022 سے گھر بیٹھایا ہوا ہے ، کئی جرگے اور دارالافتاء کا فتوی بھی پیش کیا کہ شوہر  کی اجازت کے بغیر میری بیوی کو بیٹھانا مناسب نہیں اور بیوی کے واپس نہ  آنے تک فرشتے  اس پر لعنت بھیجتے ہیں، لیکن میرا سسر اور ان کے رشتے دار کسی جرگے اور فتوے کو نہیں مان رہے ، میں اپنی بیوی کے تمام حقوق الحمد للہ پورے کرتا رہا ہوں ، لیکن میری حاملہ بیوی کو میرے ساتھ کہیں  بھی رہنے  کو تیار نہیں  اور میری بیوی بھی بغیر وجہ بتائے میرے ساتھ جانے کو تیار نہیں ہورہی ، نہ وہ مجھ سے خلع لینا چاہتے ہیں اور نہ میں طلاق دینا چاہتا ہوں ، کیا ان حالات میں مجھے دوسری شادی کی اجازت ہے جب کہ میری بیوی مجھے دوسری شادی کی اجازت بھی نہیں دے رہی ، دوسری شادی کی اجازت لیے بغیر میں  کسی خاتون کے اہل خانہ کی مرضی سے حلال نکاح کرلوں تو یہ عمل کیسا ہوگا ؟،میری راہ نمائی فرمائیں کہ اسلام میں کیا حکم ہے کہ کیا بیوی کی اجازت کے بغیر میں دوسری شادی کرسکتا ہوں  یا نہیں ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگرواقعۃًسائل کی تمام ترکوششوں کےباوجوداس کی بیوی واپس نہیں آرہی اوردوسری شادی کی اجازت بھی نہیں دےرہی تو سائل شرعاًپہلی بیوی کی اجازت کےبغیربھی دوسری شادی کرسکتاہے۔

قرآن کریم میں ہے:

"﴿ وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوْا فِي الْيَتَامٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانِكُمْ ذٰلِكَ أَدْنٰى أَلَّا تَعُوْلُوْا﴾."(النساء:3)

ترجمہ: ”اور اگر تم کواس بات کا احتمال ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کر سکوگے تو اورعورتوں سے جوتم کو پسند ہوں نکاح کرلو ، دو دوعورتوں سے اور تین تین عورتوں سے اور چارچار عورتوں سے، پس اگر تم کو احتمال اس کا ہو کہ عدل نہ رکھوگے تو پھر ایک ہی بی بی پر بس کرو یا جو لونڈی تمہاری ملک میں ہو وہی سہی، اس امرمذکور میں زیادتی نہ ہونے کی توقع قریب ترہے۔“(بیان القرآن )

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144308101887

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں