بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 صفر 1442ھ- 26 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کرنا


سوال

میں دوسری شادی کرنا چاہتا ہوں پہلی بیوی سے اجازت کے بغیر، کیا حکم ہے؟

 

جواب

اگر کوئی شخص دوسری شادی کی استطاعت رکھتا ہے اور وہ  بیویوں میں عدل وانصاف اور (نان ونفقہ اور شب باشی میں) برابری بھی کرسکتا ہے تو اس کے لیے  دوسری شادی کرنا جائز ہے،  دوسری شادی کرنے کے لیے پہلی بیوی کی رضامندی  شرعاً ضروری نہیں ہے۔

تاہم بہتر یہ ہے کہ پہلی بیوی کو رضامند کرکے دوسری شادی کریں؛ تاکہ آئندہ کی زندگی میں سکون اور اطمینان ملے، اور دوسری شادی کامقصدپوری طرح  حاصل ہو۔

           قرآنِ کریم میں ہے:

{فَانكِحُواْ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلاَثَ وَرُبَاعَ} [النِّسَآء:۴]

ترجمہ: اور عورتوں سے جو تم کو پسند ہوں نکاح کرلو ، دو دو عورتوں سے اور تین تین عورتوں سے اور چار چار عورتوں سے۔  (بیان القرآن)

            حدیث شریف میں ہے:

"عن أبى هريرة عن النبى صلى الله عليه وسلم قال: من كانت له امرأتان فمال إلى إحداهما جاء يوم القيامة وشقه مائل". ( سنن أبي داود، كتاب النكاح، باب فى القسم بين النساء ۲/۲۹۷ ط:حقانية)

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس کی دو بیویاں ہوں اور وہ ایک کی طرف مائل ہو تو وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کی ایک جانب  مائل (مفلوج) ہوگی۔

فتاوی شامی میں ہے:

" (و) صح (نكاح أربع من الحرائر والإماء فقط للحر) لا أكثر". (3/ 48،  کتاب النکاح، ط: سعید)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وإذا كانت له امرأة وأراد أن يتزوج عليها أخرى وخاف أن لايعدل بينهما لايسعه ذلك، وإن كان لايخاف وسعه ذلك". (1/ 341،  کتاب النکاح،  الباب الحادی عشر في القسم، ط: رشیدیة) فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144108200740

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں