بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 صفر 1443ھ 19 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

پیدائشی خصی بچھڑے کی قربانی


سوال

 اگر بچھڑے کے پدائشی کپورے نہ ہوں تو کیا اس کی قربانی کی جاسکتی ہے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں ایسے بچھڑے کی قربانی جائز ہے۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق، 8/ 232:

"قَالَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - (وَخَصِيُّ الْبَهَائِمِ) يَعْنِي يَجُوزُ لِأَنَّهُ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - «ضَحَّى بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ مَوْجُوءَيْنِ» وَالْمَوْجُوءُ هُوَ الْخَصِيُّ وَلِأَنَّ لَحْمَهُ يَطِيبُ بِهِ، وَيَتْرُكُ النِّكَاحَ فَكَانَ حَسَنًا وَلَك أَنْ تَقُولَ الدَّلِيلُ لَا يُفِيدُ جَوَازَ الْفِعْلِ وَإِنَّمَا يُفِيدُ جَوَازَ التَّضْحِيَةِ بِهِ وَلَا يَلْزَمُ مِنْ جَوَازِ التَّضْحِيَةِ جَوَازُ الْفِعْلِ. وَالْجَوَابُ أَنَّ الْبَهَائِمَ كَانَتْ تَكْثُرُ فِي زَمَنِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتُكْوَى بِالنَّارِ لِأَجْلِ الْمَنْفَعَةِ لِلْمَالِكِ فَكَذَا يَجُوزُ هَذَا الْفِعْلُ لِتَعُودَ الْمَنْفَعَةُ لِلْمَالِكِ وَفِي الصِّحَاحِ جَمْعُ خَصِيٍّ هُوَ خِصًا بِكَسْرِ الْخَاءِ وَالرَّجُلُ خَصِيٌّ وَخَصِيَّةٌ اهـ. قَالَ الْعَيْنِيُّ وَالْخُصْيَانُ بِضَمِّ الْخَاءِ جَمْعُ خَصِيٍّ وَفِي الْمُحِيطِ أَنَّ الْأَصْلَ إيصَالُ الْأَلَمِ إلَى الْحَيَوَانِ لِمَصْلَحَةٍ تَعُودُ إلَى الْحَيَوَانِ يَجُوزُ وَلَا بَأْسَ بِكَيِّ الْبَهَائِمِ لِلْعَلَامَةِ."

الفتاوی الهندیة، کتاب الأضحیة، الباب الخامس، 5/ 299:

"والخصي أفضل؛ من الفحل لأنه أطيب لحمًا، كذا في المحيط."

فقط و الله أعلم


فتوی نمبر : 144212200423

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں