بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 شوال 1445ھ 29 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

پیدائشی خصی جانور کی قربانی کرنا


سوال

جو جانور پیدائشی خصی ہو اس کی قربانی جائز ہے یا نہیں؟

جواب

خصی جانور کی قربانی کرنا جائز ہے، پیغبر علیہ الصلاۃ و السلام نے خصی جانوروں کی قربانی فرمائی ہے، نیز جانور کو خصی کرنے سے اس میں گوشت کی مقدار اور پاکیزگی بھی بڑھ جاتی ہے ، اس لیے جانوروں میں خصی ہونا عیب نہیں ہے، چاہے وہ پیدائشی خصی ہوں یا اُنہیں بعد میں خصی کیا گیا ہو ، دونوں صورتوں میں قربانی درست ہےبلکہ خصی جانور کی قربانی کرنا افضل ہے، البتہ اس کو لازم اور ضروری نہ سمجھا جائے ۔

سنن أبي داود، باب ما یستحب من الضحایا، 2 /30:

"عن جابر بن عبدالله، قال: ذبح النبي صلى الله عليه وسلم يوم الذبح كبشين أقرنين أملحين موجئين."

ترجمہ: حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحیٰ کے دن سینگوں والے سیاہ وسفید دھبے دار خصی دو مینڈھے ذبح کیے۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق، 8/ 232:

"قَالَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - (وَخَصِيُّ الْبَهَائِمِ) يَعْنِي يَجُوزُ لِأَنَّهُ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - «ضَحَّى بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ مَوْجُوءَيْنِ» وَالْمَوْجُوءُ هُوَ الْخَصِيُّ وَلِأَنَّ لَحْمَهُ يَطِيبُ بِهِ، وَيَتْرُكُ النِّكَاحَ فَكَانَ حَسَنًا وَلَك أَنْ تَقُولَ الدَّلِيلُ لَا يُفِيدُ جَوَازَ الْفِعْلِ وَإِنَّمَا يُفِيدُ جَوَازَ التَّضْحِيَةِ بِهِ وَلَا يَلْزَمُ مِنْ جَوَازِ التَّضْحِيَةِ جَوَازُ الْفِعْلِ. وَالْجَوَابُ أَنَّ الْبَهَائِمَ كَانَتْ تَكْثُرُ فِي زَمَنِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتُكْوَى بِالنَّارِ لِأَجْلِ الْمَنْفَعَةِ لِلْمَالِكِ فَكَذَا يَجُوزُ هَذَا الْفِعْلُ لِتَعُودَ الْمَنْفَعَةُ لِلْمَالِكِ وَفِي الصِّحَاحِ جَمْعُ خَصِيٍّ هُوَ خِصًا بِكَسْرِ الْخَاءِ وَالرَّجُلُ خَصِيٌّ وَخَصِيَّةٌ اهـ. قَالَ الْعَيْنِيُّ وَالْخُصْيَانُ بِضَمِّ الْخَاءِ جَمْعُ خَصِيٍّ وَفِي الْمُحِيطِ أَنَّ الْأَصْلَ إيصَالُ الْأَلَمِ إلَى الْحَيَوَانِ لِمَصْلَحَةٍ تَعُودُ إلَى الْحَيَوَانِ يَجُوزُ وَلَا بَأْسَ بِكَيِّ الْبَهَائِمِ لِلْعَلَامَةِ."

الفتاوی الهندیة، کتاب الأضحیة، الباب الخامس، 5/ 299:

"والخصي أفضل؛ من الفحل لأنه أطيب لحمًا، كذا في المحيط." فقط و الله أعلم


فتوی نمبر : 144112200018

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں