بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 رجب 1442ھ 27 فروری 2021 ء

دارالافتاء

 

پیدایش کے وقت بچے کے کان میں اذان دینا


سوال

پیدائش کے وقت بچے کے کان میں اذان  کون دے؟

جواب

پیدائش کے وقت بچے کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت دینا سنت ہے،اور یہ اذان کوئی بھی شخص دے سکتا ہے، البتہ کسی نیک اور متقی شخص سے اذان دلوانا بہتر ہے۔

شرح السنۃ میں ہے:

"روي أن عمر بن عبد العزيز كان يؤذن في اليمنى ويقيم في اليسرى إذا ولد الصبي". (11/273)

ایک اور حدیث میں وارد ہے:

"وعن أبي رافع - رضي الله عنه - قال: «رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم أذن في أذن الحسن بن علي - رضي الله عنهما - حين ولدته فاطمة بالصلاة» . رواه الترمذي، وأبو داود. وقال الترمذي: هذا حديث حسن صحيح."

(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (7/ 2691)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144202200927

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں