بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1445ھ 23 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

پتھر پھینکنے کے ساتھ طلاق کے صریح الفاظ ادا کرنے کا حکم


سوال

میں  نے اپنی بیوی کی طرف تین پتھر  پھینکتے ہوئے  یہ الفاظ ادا کیے کہ" ایک پتھر کے ساتھ تم مجھ پر طلاق ہو، دوسرے پتھر کے ساتھ تم مجھ پر طلاق ہو، تیسرے پتھر کے ساتھ تم مجھ پر طلاق ہو" کیا اس صورت میں میری بیوی پر طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟

جواب

صورت مسئولہ سائل    کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں، سائل کی بیوی اس  پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حر ام ہو گئی ہے،نکاح ختم ہو چکا ہے ، اب رجوع جائز نہیں اور دوبارہ نکاح بھی نہیں ہو سکتا،اب سائل کی بیوی اپنی عدت (پوری تین  ماہواریاں اگر حمل نہ ہو،اگرحمل ہو تو بچہ  کی پیدائش  تک )گزار کر دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے۔

قرآن مجید میں ہے:

فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُ۔

(سورۃ البقرۃ، پارہ 2/ایت نمبر230)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية۔

 (کتاب الطلاق،باب ،فیما تحل بہ المطلقہ/ج1/ص473/ط،دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144304100554

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں