بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 محرم 1444ھ 08 اگست 2022 ء

دارالافتاء

 

پشتو میں تین مرتبہ طلاق درکوم کہنا جس کا اردو ترجمہ ہے ’’طلاق دیتا ہوں‘‘ سے وقوع طلاق کا حکم


سوال

گھریلو مسائل کی وجہ سے میرا اپنی بیوی سے جھگڑا ہوا ، جھگڑے کے دوران غصہ کی حالت میں میں نے اپنی بیوی سے پشتو میں تین مرتبہ اس طرح کہا "طلاق درکوم، طلاق درکوم، طلاق درکوم" جس کا اردو ترجمہ ہے ، "طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں ، طلاق دیتا ہوں" تو کیا اس طرح کہنے سے طلاق واقع ہوگئی ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب سائل نے پشتو میں اپنی بیوی سے  تین مرتبہ یہ کہا کہ: "طلاق درکوم، طلاق درکوم، طلاق درکوم" جس کا اردو ترجمہ ہے ، "طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں ، طلاق دیتا ہوں" تو اس سےسائل کی بیوی پر تین طلاقیں واقع  ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوگئی ہے، اور بیوی شوہر کے لیے حرام ہوگئی ہے، اور رجوع کا حق بھی ختم ہو گیا ہے۔

تین طلاقیں دینے کی صورت میں عدت کے دوران رجوع کا حق باقی نہیں رہتا، اور نہ ہی عدت گزرنے کے بعد اس شوہر سے نکاح ہو سکتا ہے، جب تک عورت عدت گزار کر کسی دوسرے مرد سے نکاح نہ کرے اور اس کے ساتھ حقوقِ زوجیت ادا نہ کرے، پھر اگر وہ طلاق دےدے یا انتقال کر جائے، تو عدت گزرنے کے بعد طرفین کی رضامندی سے نئے مہر اور دو گواہوں کی موجودگی میں سابقہ شوہر  سے دوبارہ نکاح کیا جا سکتا ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية."

(كتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة، فصل فيما تحل به المطلقة، ج:1، ص:473، ط:رشيديه)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144401100109

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں