بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

پسینہ ناپاک نہیں ہوتا


سوال

 اگر کسی کےجسم کے کسی حصے پر نجاست لگی ہو اور اسے پسینہ آ جاۓ ،تو کیا جسم کا وہی حصہ ناپاک ہو گا جہاں ناپاکی لگی ہو گی یا جہاں جہاں پسینہ لگے گا پورے جسم پروہ سب ناپاک ہو جاۓ گا؟

جواب

پسینہ نجس نہیں ہوتااور نہ ہی پسینہ کو دھونا یا پسینہ نکلنے کی وجہ سے جسم کو پاک کرنا ضروری ہے،البتہ اگر پسینہ جسم پر لگی ہوئی نجاست کے ساتھ مل کر بہہ جائے، تو ان سب جگہوں کو دھونا ضروری ہوگا جہاں جہاں پسینہ جسم پر لگی ہوئی نجاست کے ساتھ مل کر بہا ہے۔

صحیح بخاری میں ہے:

"عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: لقيني رسول الله صلي الله عليه وسلم و أنا جنب، فأخذ بيدي، فمشيت معه حتي قعد، فانسللت فأتيت الرحل، فاغتسلت، ثم جئت و هو قاعد، فقال: أين كنت يا أيا هريرة؟ فقلت له، فقال: سبحان الله! يا أبا هريرة! إن المؤمن لاينجس".

(كتاب الطهارة، باب الجنب يخرج و يمشي في السوق و غيره، ط: قديمي)

"ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ  کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مجھ سے ملے اس حال میں کہ میں جنبی (یعنی مجھ پر غسل فرض) تھا، آپ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا، میں آپ ﷺ کے ساتھ چلا، یہاں تک کہ آپ ﷺ تشریف فرماہوئے، میں چپکے سے وہاں سے نکلا اور اپنی رہائش پر آکر غسل کیا، پھر میں آیا تو آپ ﷺ تشریف فرماتھے، آپ ﷺ نے فرمایا: اے ابوہریرہ کہاں تھے؟ میں نے وجہ بتادی، آپ ﷺ نے فرمایا: "سبحان الله"! مؤمن کا (ظاہری) جسم ناپاک نہیں ہوتا۔"

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"عرق كل شيء معتبر بسؤره. كذا في الهداية عرق الحمار والبغل ولعابهما إذا وقعا في الماء القليل أفسداه وإن قلا. كذا في المحيط وإن أصاب الثوب لا يمنع جواز الصلاة وإن فحش في ظاهر الرواية. هكذا في خزانة المفتين."

(کتاب الطہارۃ، باب الانجاس، ج: 1، ص: 23، ط: دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144511101088

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں