بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ربیع الاول 1443ھ 24 اکتوبر 2021 ء

دارالافتاء

 

پرپال کمپنی میں رقم انوسٹ کرنے کا حکم


سوال

کیا پرپال کمپنی میں پیسہ لگانا جائز ہے؟

جواب

بصورتِ مسئولہ پرپال کمپنی  سےکمائی کےدو طریقے رائج  ہیں:

1:نیٹ ورک مارکیٹینگ۔ 2:انویسٹمنٹ پیکج

نیٹ ورک مارکیٹینگ: اس میں کمائی اشتہارات وغیرہ کےذریعے کی جاتی ہے،جو کئی وجوہات کی بنا پر ناجائز ہے، مثلاً  بائع کو فرضی اشتہارات دکھاکر بیچنے والے کو دھوکا دینا،جان دار  کی تصویردکھانے پر اجرت لینا،اور ان تصاویر کا خواتین کی تصویروں پرمشتمل ہونا، بلاعمل کمیشن لینے کامعاہدہ کرنا اور اس پراجرت لینا وغیرہ وغیرہ۔

انویسٹمنٹ پیکج: اس میں رقم جمع کرنےکےبعد ایک متعین  منافع  ملتا ہے   اور  کسی بھی کاروبار  میں سرمایہ پر  متعین نفع  ملنا یہ قرض دےکر سود  وصول کرنے کے حکم میں ہے اور سود بلاشبہ حرام ہے، لہذا دونوں طریقوں میں سےکسی بھی طریقہ سے مذکورہ کمپنی  میں  رقم انوسٹ کرکے منافع کمانا  جائز نہیں ہے۔

حدیث شریف میں ہے:

" عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُمَيْرٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْكَسْبِ أَطْيَبُ؟ قَالَ: " عَمَلُ الرَّجُلِ بِيَدِهِ، وَكُلُّ بَيْعٍ مَبْرُورٍ ".

ترجمہ:آپ ﷺ سے پوچھا گیا  کہ سب سے پاکیزہ کمائی کو ن سی ہے؟ تو آپ ﷺنے فرمایا کہ  آدمی کا  خود  اپنے ہاتھ سے محنت کرنا اور ہر جائز اور مقبول بیع۔

(شعب الایمان، باب الدعاء الی الاسلام، الفصل الثالث عشر التوکل باللہ، ج:2، ص:434، دارالکتب العلمیۃ)

الموسوعة الفقهية میں ہے:

"الإجارة على المنافع المحرمة كالزنى والنوح والغناء والملاهي محرمة، وعقدها باطل لايستحق به أجرة . ولايجوز استئجار كاتب ليكتب له غناءً ونوحاً؛ لأنه انتفاع بمحرم ... ولايجوز الاستئجار على حمل الخمر لمن يشربها، ولا على حمل الخنزير."

(الاجارة على المعاصى والطاعات، ج:1، ص:290، ط:اميرحمزه كتب خانه)

فتاوی شامی میں ہے:

"وفي الأشباه: كل قرض جر نفعاًحرام، فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن."

( مطلب کل قرض جر نفعًا، ج:5، ص:166، ط:ايج ايم سعيد) 

فقط والله اعلم 


فتوی نمبر : 144207201465

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں