بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شوال 1445ھ 23 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

پرندوں کو خریدنا اور پالنا


سوال

 پرندہ پالنا جائز ہے یا نہیں ،  جیسا کہ لوگ جو پرندے پالتے ہیں جن میں پالتوں کبوتر یا چڑیا جنہیں  لو بڈز کہا جاتا ہے، ان کو دکان سے خریدنا اور پالنا کیسا ہے؟

جواب

اگر پرندوں کی خوراک اور ضروریات وغیرہ کا خیال رکھا جاتا ہے تو انہیں پالنا اور ان  کی خرید وفروخت درست ہےاور آمدنی حلال ہے۔ البتہ کبوتر یا دیگر پرندے اڑانےکو مشغلہ بنانا،ہر وقت ان ہی کے  ساتھ شوقیہ مصروف رہنا  جس سے دیگر فرائض واجبات میں کوتاہی ہو تی ہو  اور  اسی طرح پرندے لڑانا شرعًا درست نہیں ہے۔

مشکاۃ شریف کی روایت میں حضرت ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ سے منقول ہے:

"ایک دن رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو کبوتروں کے پیچھے پڑا ہوا تھا، یعنی ان کے ساتھ لہو و لعب کرنے اور ان کو اڑانے میں مشغول تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ شیطان ہے اور شیطان کے پیچھے پڑا ہوا ہے ۔ " (احمد ، ابوداؤد ، ابن ماجہ ، بیہقی ،)''۔

"فتاوی شامی " میں ہے:

"(قوله : وكذا الطيور ) أي الجوارح درر. (قوله : علمت أولا ) تصريح بما فهم من عبارة محمد في الأصل، وبه صرح في الهداية أيضاً، لكن في البحر عن المبسوط: أنه لا يجوز بيع الكلب العقور الذي لا يقبل التعليم في الصحيح من المذهب، وهكذا نقول في الأسد إن كان يقبل التعليم ويصطاد به: يجوز بيعه وإلا فلا. والفهد والبازي يقبلان التعليم، فيجوز بيعهما على كل حال ا هـ  قال في الفتح: فعلى هذا لايجوز بيع النمر بحال؛ لأنه لشراسته لايقبل التعليم. وفي بيع القرد روايتان ا هـ  وجه رواية الجواز -و هو الأصح، زيلعي- أنه يمكن الانتفاع بجلده، وهو وجه ما في المتن أيضاً، وصحح في البدائع عدم الجواز؛ لأنه لايشترى للانتفاع بجلده عادةً، بل للتلهي به وهو حرام ا هـ بحر. قلت: وظاهره أنه لولا قصد التلهي به لجاز بيعه. ثم إنه يرد عليه ما ذكره الشارح عن شرح الوهبانية من أن هذا لا يقتضي عدم صحة البيع، بل كراهته. الحاصل: أن المتون على جواز بيع ما سوى الخنزير مطلقاً "۔(5/227بیروت)

فقط  واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144110201253

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں