بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 27 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

پرائز بانڈ کا شرعی حکم


سوال

مروجہ پرائز بانڈ کا شرعی حکم کیا ہے؟ آیا یہ جائز ہے یا نا جائز؟ یاد رہے کہ پرائز بانڈ کی صورت یہ ہے کہ کچھ مخصوص رقم مثلاً 5000 روپیہ جمع کروائی جاتی ہے اور پھر قرعہ اندازی کے ذریعے انعام ملتا ہے مثلاً 5000 پہ لاکھ روپیہ انعام ملتا ہے. اور اگر انعام نہ نکلے تو بینک کی طرف سے یہ اختیار ہے کہ صارف اپنی اصل رقم(5000)واپس بھی لے سکتا ہے. برائے مہربانی اس حوالے سے راہ نمائی فرما دیں!

جواب

پرائز بانڈ کی خریدوفروخت  اور اس پر ملنے والا انعام ناجائز اور حرام ہے ۔

تفصیل کے لیے جامعہ کی ویب سائٹ پر موجود فتوی درج ذیل لنک پردیکھیں ۔

پرائز بانڈ کی شرعی حیثیت

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107200731

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے