بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شعبان 1445ھ 23 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

پرائز بانڈ سے نکلنے والی انعامی رقم کا حکم


سوال

پرائز بانڈ سے نکلنے والی انعام کی رقم جائز ہے یا نہیں؟

جواب

پرائز بانڈ کی انعام کی نیت سے خرید وفروخت اور اس پر ملنے والا انعام ناجائزا ور حرام ہے، اس میں  سود اور جوا پایا جاتا ہے۔

پرائز بانڈز میں سود کا وجود تو بالکل ظاہر ہے،  کیوں کہ سود کی حقیقت یہ  ہے کہ مال کا مال کے بدلے معاملہ کرتے وقت ایک طرف ایسی زیادتی مشروط ہو جس کے مقابلے میں دوسری طرف کچھ نہ ہو ،بعینہ یہی حقیقت بانڈز کے انعام میں بھی موجود ہے، کیوں کہ ہر آدمی مقررہ رقم دے کر پرائزبانڈز اس لیے حاصل کرتا ہے کہ اس سے قرعہ اندازی میں نام آنے پر اپنی رقم کے علاوہ  زیادہ رقم مل جائے ،اور یہ زائد اور اضافی رقم سود ہے۔

اسی طرح پرائزبانڈ ز  میں "جوا" بھی شامل ہے ،اور" جوا"   کی حقیقت یہ ہے کہ ایسا معاملہ کیا جائے جو نفع ونقصان کے خطرے کی بنیاد  پرہو، اورپرائزبانڈز کے حصہ داران زائد رقم وصول کرنے کی غرض سے پرائز بانڈ خریدتے ہیں ، لیکن معاملہ قرعہ اندازی اور اس میں نام آنے پر مشروط ہونے کی وجہ سے یہ لوگ خطرے میں رہتے ہیں کہ زائد رقم ملے گی  یانہیں، اس سے واضح ہوا کہ  پرائز بانڈز جوئے اور سود کا مجموعہ ہے،  لہٰذا اس کی خرید وفروخت کرنا اور اس سے ملنے والی انعامی رقم حاصل کرنا شریعت کے روح سے ناجائز اور حرام ہے، اس سے مکمل اجتناب کیا جائے ۔

قرآنِ کریم میں ہے:

"﴿ يَآ أَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوآ اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُون﴾ [المائدة: 90]"

صحیح مسلم  میں ہے:

"‌لعن ‌رسول ‌الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا ومؤكله، وكاتبه وشاهديه، وقال: هم سواء".

( کتاب البیوع ، ‌‌باب لعن آكل الربا ومؤكله،  ج:5، ص:50، ط: دار الطباعة العامرة)

مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:

"عن ابن سیرین قال: کل شيء فیه قمار فهو من المیسر".

( کتاب البیوع  والأقضیة،  ج: 4، ص: 483، ط: مکتبة رشد)

فتاوی شامی میں ہے:

"وسمي ‌القمار ‌قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص".

( کتاب الحظر والاباحۃ ، فصل فی البیوع، ج: 6،  ص: 403 ، ط: سعید) 

حدیث شریف میں ہے:

"حدثنا الحسن بن موسى، عن حماد بن سلمة، عن علي بن زيد، عن أبي الصلت، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " أتيت ليلةً أسري بي على قومٍ بطونهم كالبيوت، فيها الحيات ترى من خارج بطونهم، فقلت: من هؤلاء يا جبرائيل؟ قال: هؤلاء أكلة الربا ".

وفیه أیضًا:

"حدثنا سماك بن حرب، قال: سمعت عبد الرحمن بن عبد الله، يحدث عن عبد الله بن مسعود، «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، لعن آكل الربا، وموكله، وشاهديه، وكاتبه»".

"ترجمہ:  حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے اور کھلانے والے اور اس کے گواہ بننے اور لکھنے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔"

(سنن ابن ماجه، باب التغليظ في الربا، ج: 1، صفحہ: 763 و764، رقم الحدیث: 2273 و2277، ط: دار إحياء الكتب العربية - فيصل عيسى البابي الحلبي)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144507101912

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں