بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ربیع الاول 1443ھ 24 اکتوبر 2021 ء

دارالافتاء

 

ینٹ یا پتلون کو نیچے سے فولڈ کر کے نماز پڑھنا


سوال

 کیا پینٹ یا پتلون کو نیچے سے فولڈ کر کے نماز پڑھنا مکروہ ہے  اور اسی طرح آستین اوپر چڑھا کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟

جواب

اگر نماز شروع کرنے سے پہلے آستین موڑ کر اوپر کی ہو تو ایسی حالت میں نماز مکروہ ہوگی، اگرچہ آستین کہنیوں سے نیچے تک موڑی ہو اور خواہ گرمی اور پسینے کی وجہ سے کیوں نہ ہو۔ اور اگر نماز کے دوران آستینیں فولڈ کیں تو اگرعملِ کثیر کے ساتھ فولڈ کیں تو نماز فاسد ہوجائے گی۔

نیز نماز میں اور نما زکے باہر ہر حالت میں مسلمان کو ٹخنے چھپانے سے گریز کرنا  چاہیے،صحیح احادیث میں اس کی سخت ممانعت آئی ہے۔ نماز کی حالت میں ٹخنے چھپانے کی قباحت اور بڑھ جاتی ہے ، اس لیے اگر پینٹ لمبی ہوتو کم از کم نماز سے پہلے اسے فولڈ کرکے ٹخنے ظاہر کردینے  چاہییں۔نماز شروع کرنے سے  پہلے  شلوار ، پینٹ وغیرہ کو اوپر یا نیچے کی طرف سے موڑ لینے سے کم ازکم اس گناہ سے نجات مل جائے گی جو شلوار وغیرہ کو نماز کے اندر ایسے ہی چھوڑ دینے سے  ہوتا، لیکن مستقل لمبی پینٹ پہننا اور  صرف نماز میں  اس کو موڑ دینا  بھی مکروہ  ہے۔

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک دیکھیے:

نماز میں پینٹ کے پائنچے فولڈ کر نا

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 640):

"(و) كره (كفه) أي رفعه ولو لتراب كمشمر كم أو ذيل، (وعبثه به) أي بثوبه.

(قوله: أي رفعه) أي سواء كان من بين يديه أو من خلفه عند الانحطاط للسجود، بحر. وحرر الخير الرملي ما يفيد أن الكراهة فيه تحريمية، (قوله: ولو لتراب) وقيل: لا بأس بصونه عن التراب، بحر عن المجتبى.

(قوله: كمشمر كم أو ذيل) أي كما لو دخل في الصلاة وهو مشمر كمه أو ذيله، وأشار بذلك إلى أن الكراهة لا تختص بالكف وهو في الصلاة، كما أفاده في شرح المنية، لكن قال في القنية: واختلف فيمن صلى وقد شمر كميه لعمل كان يعمله قبل الصلاة أو هيئته ذلك اهـ ومثله ما لو شمر للوضوء ثم عجل لإدراك الركعة مع الإمام. وإذا دخل في الصلاة كذلك وقلنا بالكراهة، فهل الأفضل إرخاء كميه فيها بعملٍ قليلٍ أو تركهما؟ لم أره: والأظهر الأول ؛ بدليل قوله الآتي: ولو سقطت قلنسوته فإعادتها أفضل، تأمل. هذا، وقيد الكراهة في الخلاصة والمنية بأن يكون رافعاً كميه إلى المرفقين. وظاهره أنه لا يكره إلى ما دونهما. قال في البحر: والظاهر الإطلاق ؛ لصدق كف الثوب على الكل اهـ ونحوه في الحلية، وكذا قال في شرح المنية الكبير: إن التقييد بالمرفقين اتفاقي. قال: وهذا لو شمرهما خارج الصلاة ثم شرع فيها كذلك، أما لو شمر وهو فيها تفسد ؛ لأنه عمل كثير".

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144205201009

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں