بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 صفر 1443ھ 17 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

پینشن کا حکم


سوال

میرے والد محترم آج  سے آٹھ  سال پہلے وفات پاچكے ہیں، وہ سرکاری ملازم تھے،  پینشن اور واجبات گور نمنٹ بیوہ کو دیتی ہےجو  دو سال کے عرصے میں ملتے ہیں، کیا وہ بھی  میراث ہے؟ میری دادی تب زندہ تھیں اور سب کام ان کی موجودگی میں ہوئے چار سال بعد دادی محترمہ کی وفات  ہوئی، ان کی  وفات کے  3  سال بعد ہم پے پھپھو لوگوں نے ایک کیس کر دیا اور دادی کا حصہ مانگنا شروع کر دیا ۔ دادی نے کبھی اپنی زندگی میں ایسا مطالبہ نہیں  کیا،  و ہ ایک امیر خاتون تھیں،  لیکن اب پھپھو لوگ پینشن میں حصہ مانگ رہے ہیں جب کہ پینشن بیوہ کو ہی ملتی ہے۔  وضاحت فرما دیں!

جواب

واضح رہے کہ ملازمین یا ان کے  انتقال بعد ان کے لواحقین کو  ملنے والی پینشن کی رقم  متعلقہ ادارہ کی طرف سے عطیہ اور تبرع ہوتی ہے، اور ادارہ  جس کے نام پر جاری کرے وہی اس کا مالک ہوتا ہے؛  لہذا صورتِ  مسئولہ  میں  سائل کے مرحوم والد  کو   ملنے والی پینشن ان کے انتقال کے بعد مرحوم کی بیوہ  کو مل رہی ہے، وہ مرحوم کی بیوہ کی ملکیت ہے،یہ مرحوم کی وراثت میں تقسیم نہ ہو گی۔ پینشن سے متعلق دیگر ورثاء(پھپھو وغیرہ) کا مطالبہ درست نہیں ہے۔

البتہ سائل کی مرحومہ دادی کے ترکہ/ میراث میں مرحومہ کے تمام شرعی ورثاء کا حق ہے؛ لہٰذا اگر سائل یا اس کے گھر والوں کے پاس مرحومہ دادی کے ترکے کا کچھ حصہ موجود ہے تو اس کے متعلق مرحومہ کے ورثاء (سائل کی پھپھو) وغیرہ کا مطالبہ درست  ہوگا۔ 

امداد الفتاوی میں ہے:

’’چوں کہ میراث مملوکہ اموال میں جاری ہوتی ہے اور یہ وظیفہ محض تبرع واحسانِ سرکار ہے، بدون قبضہ کے مملوک نہیں ہوتا، لہذا آئندہ جو وظیفہ ملے گا اس میں میراث جاری نہیں ہوگی، سرکار کو اختیار ہے جس طرح چاہیں تقسیم کردے‘‘۔

(4/343، کتاب الفرائض، عنوان: عدم جریان میراث در وظیفہ سرکاری تنخواہ، ط: دارالعلوم)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144212200482

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں