بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 جُمادى الأولى 1444ھ 01 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

پنشن اور گریجویٹی فنڈ میں میراث کا حکم


سوال

کچھ عرصہ قبل میری بیوی کا انتقال ہوگیا، اس کے ورثاء میں شوہر یعنی میں، تین بہنیں اور  دوبھائی ہیں، مرحومہ بیوی کے والدین کا انتقال اس کی زندگی میں ہوچکاہے، اور  میری اس سےکوئی اولاد نہیں ہے،  میری بیوی ایک سرکاری ٹیچر تھی، میری بیوی کی پینشن،گریجوٹی فنڈ اور انشورنس کی وصولی کے لیے SMA فائل ہے، عدالتی قانون کے حساب سے یہ پینشن ، گریجوٹی فنڈ اور انشورنس کی رقم ترکہ میں نہیں آتی ، کیا شرعاً یہ مرحومہ کے ترکہ میں شمار ہوگا؟ اور یہ بھی مجھے معلوم کرنا ہے کہ شرعی لحاظ سے ترکہ  ورثاء میں کس طرح تقسیم ہوگا؟اور ترکہ میں سے اس کے بہن بھائیوں کا کتنا حصہ بنتاہے؟ اور شوہر کا کتنا حصہ ہے؟

جواب

واضح رہے کہ  حکومتی ملازم  جب ریٹائر ہوتا ہے  تو اس کو گریجویٹی اور پینشن کے نام سے کچھ رقم بطورِ مراعات ملتی ہے ،یہ رقم تنخواہ کا حصہ نہیں ہوتی،بلکہ  ادارہ کی طرف سے ملازم کے لئے  انعام و عطیہ ہوتی ہے، یہ رقم  ریٹائرمنٹ کے وقت سے ہی دو حصوں میں تقسیم  کر دی جاتی ہے،اس میں سےکچھ  رقم فورا  ملازم کو دے دی جاتی ہے جسے" گریجویٹی"  کہا جاتا ہے اور وہ ملازم کی ملکیت ہی شمار کی جاتی ہےاورملازم کی وفات کےبعداس کی  وراثت میں تقسیم ہوتی ہے، لیکن اگر مذکورہ رقم ادارہ کی طرف سے   ملازم کی وفات کے بعد ملی تو ایسی صورت میں  ادارہ یہ رقم  جس شخص کو دے وہی اس کا حق دار ہوتا ہے،یہ وراثت میں تقسیم نہیں ہوتی ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل کی مرحومہ بیوی نے اپنی  زندگی میں پنشن کی جتنی رقم وصول کی ہے، مرحومہ اس کی مالکہ ہے، اور مرحومہ کے انتقال کے بعد یہ رقم اس کے ترکہ میں شامل ہوکر ورثاء میں شرعی طریقہ کے مطابق تقسیم ہوگا، اور پنشن  و گریجویٹی فنڈ کی وہ رقم جو اب تک مرحومہ کو  نہیں ملی ہے، مرحومہ کے انتقال کے بعد شوہر یا بہن بھائی میں سے جس کے نام  گورنمنٹ یہ رقم جاری کرے وہی اس کا مالک ہوگا، یہ مرحومہ کے ترکہ میں شامل نہیں ہوگا۔

اور انشورنس کے نام پر جمع کردہ اصل رقم مرحومہ کےترکہ میں شامل ہوکر تمام ورثاء میں شرعی طریقہ کے مطابق تقسیم ہوگی، اور اس پر اضافی  ملنے والی سود کی  رقم ورثاء کے لیے لینا جائز نہیں ہے اور نہ ہی اس میں وراثت جاری ہوگی، بلکہ  ثواب کی نیت کے بغیر   اسے کسی غریب پر صدقہ کرنا واجب ہے۔

باقی مرحومہ کے ترکہ کی شرعی تقسیم یہ ہے کہ سب سے پہلے ترکہ میں سے  اگر مرحومہ کے ذمہ کسی کا قرض ہوتو اسے ادا کرنے کے بعد اور  اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے   باقی ترکہ کے ایک تہائی  میں سے  نافذ کرنے کے بعد بقیہ ترکہ منقولہ وغیر منقولہ کو 14 حصوں میں تقسیم کرکے مرحومہ کے شوہر سائل کو 7 حصے، دو بھائیوں میں سے ہرایک بھائی کو 2،2 حصے اور تین بہنوں میں سے ہرایک بہن کو 1،1 حصہ ملے گا۔

تقسیم کی صورت یہ ہے:

میت:2/ 14

شوہربھائیبھائیبہنبہنبہن
11
722111

یعنی فیصد کے اعتبار سے مرحومہ کے شوہر سائل کو 50فیصد، دوبھائیوں میں سے ہرایک بھائی کو 14.285 فیصد اور تین بہنوں میں سے ہرایک بہن کو 7.142 فیصد ملے گا۔

شرح المجلۃ میں ہے:

"المادة (2 9 0 1) - (كما تكون أعيان المتوفى المتروكة مشتركة بين وارثيه على حسب حصصهم كذلك يكون الدين الذي له في ذمة آخر مشتركا بين وارثيه على حسب حصصهم)."

(الکتاب العاشر الشرکات، الباب الأول في بیان شركة الملك ج:3،ص:55،ط: المكتبة الطارق)

وفیہ ایضاً:

"فالتبرع هو إعطاء الشيء غير الواجب، إعطاؤه إحسانا من المعطي."

(المادۃ، 57،ج:1،ص:57،ط:المكتبة الطارق)

موسوعۃ القواعد الفقہیۃ   میں ہے:

"ما حصل بسبب خبيث فالسّبيل ردّه ...؛ لأنّ سبيل الكسب الخبيث التّصدّق إذا تعذّر الردّ على صاحبه، ويتصدّق بلا نيَّة الثّواب له، وإنّما ينوى به براءة الذّمّة".

(‌‌القاعدة الثالثة والسّبعون ج9 ص 124 ط:بیروت لبنان)

امداد الفتاویٰ میں ہے :

"   چوں کہ میراث اموال مملوکہ میں جاری ہوتی ہے اور یہ وظیفہ محض تبرع واحسان سرکار کا ہے  بدون قبضہ مملوک نہیں ہوتا ،لہذا آئندہ جو وظیفہ ملے گا اس میں  میراث جاری نہیں ہوگی ،سرکار کو اختیار ہے جس طرح چاہے  تقسیم کردے۔"

(کتاب الفرائض  ج 4 ص 342 ط:مکتبہ دارالعلوم کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144401101307

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں