بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ربیع الاول 1444ھ 02 اکتوبر 2022 ء

دارالافتاء

 

پانی کی موٹر میں چھپکلی مری ہوئی ہو تو اس پانی کا وضو وغیرہ میں استعمال کرنا


سوال

پانی موٹر کے ذریعے پائپ  سے لیا جائے اور کھانے پینے وضو میں استعمال کیا جائے اور موٹر میں مری ہوئی چپکلی کا کچھ حصے موجود ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟ کیا نماز کو دوبارہ پڑھا جائے گا؟

جواب

عام گھریلو  چھپکلی چھوٹی ہوتی ہے ، اس میں بہنے والا خون نہیں ہوتا؛  اس لیے اس کے پانی میں مرنے یا پھولنے پھٹنے سے پانی ناپاک نہیں ہوگا، اس سے وضو اور غسل جائز ہے۔  البتہ اگر وہ  پانی نقصان دہ ہو تو طبی نقطہ نظر سے استعمال نہ کیا جائے؛ لہٰذا صورتِ  مسئولہ میں  وضو و نماز کے اعادہ کی ضرورت نہیں، البتہ  اگر چھپکلی بڑی ہو (جس میں بہنے والا خون ہو) تو پانی کی ٹنکی میں اس کے گر کر مرنے سے پانی ناپاک ہوجائے گا، لہٰذا جب تک ایسی چھپکلی کا بقیہ حصہ نکال کر پانی جاری نہ کیا جائے، اور پانی اس کے بقیہ حصے سے گزر کر آتا ہو تو  اس کا استعمال جائز نہیں ہوگا۔ (سابقہ فتاویٰ جامعہ)

’’کفایت المفتی‘‘  میں ہے:

’’(جواب ۲۸۷):  چھپکلی میں دم سائل نہیں ہے،  اس لیے اس کے پانی میں مرنے یا پھولنے پھٹنے سے پانی ناپاک نہیں ہوگا،  اس کی دلیل بھی فقہ کی کتابوں میں صاف طور پر لکھی ہے ۔  ’’و موت مالیس له نفس سائلة لاینجس الماء‘‘،  یعنی ایسے جانور کا پانی میں مرجانا جس میں دمِ سائل نہیں پانی کو ناپاک نہیں کرتا،  پس اس قاعدے کے ماتحت ’’سام ابرص‘‘  سے کوئی ایسا جانور مراد ہوسکتا ہے جس میں دمِ سائل ہو، مثلاً گرگٹ جس میں دم سائل ہوتا ہے،  ’’سام ابرص‘‘  میں گرگٹ، چھپکلی دونوں شامل ہیں، ’’جوہرہ نیرہ شرح قدوری‘‘  میں ’’سام ابرص‘‘  کی تفسیر میں ’’الوزغ الکبیر‘‘  اسی لیے لکھا ہے، یعنی بڑا گرگٹ جس میں دمِ سائل ہوتا ہے‘‘. 

الفتاوی  الهندیة (۲۴/۱):

"وموت ما لیس له نفس سائلة في الماء لاینجسه، کالبق والذباب والزنابیر والعقارب ونحوهما".

فتاوی شامی(۱۸۳/۱):

"(ویجوز) رفع الحدث (بما ذکر وان مات فیه) ای الماء ولو قلیلاً (غیر دموی کزنبور ) وعقرب وبق.
 (غیر دموی) المراد مالا دم له سائل؛ لما فی القهستاني: أن المعتبر عدم السیلان لا عدم أصله حتی لو وجد حیوان له دم جامد لاینجس".

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144206200262

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں