بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شوال 1445ھ 21 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

پانی کے پاک یا ناپاک ہونے میں شک ہو تو کیا حکم ہے؟


سوال

اگر  چار  یا  پانچ  منزل  بلڈنگ  کے  اوپر  سے پانی گرے اور معلوم نہ ہو کے پانی پاک ہے یا نا پاک، تو اس حالت میں پڑھی ہوئی نماز  کا  کیا حکم ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کپڑوں وغیرہ پر پانی یا کوئی اور مائع آکر لگ جائے اور اس کے بارے میں معلوم نہ ہو کہ وہ پاک ہے یا ناپاک تو جب تک اس  کی نجاست کا اس کی بویا رنگ وغیرہ سے یقین نہ ہو جائے  اس وقت تک  کپڑوں کو پاک ہی سمجھا جائے گا اور ایسے کپڑوں  میں پڑھی گئی ساری نمازیں ٹھیک  ہیں ان کو لوٹانے کی ضرورت نہیں ہے۔ہاں اگر اس پانی کے رنگ یااس کی بو  سے اس کے  نا پاک ہونے کا یقین ہوجائے تو اس صورت میں وہ پانی پانی نجاستِ غلیظہ کے حکم میں ہوتا ہے،لہذا  جن کپڑوں پر ایک  وہ پانی بقدرِدرہم (یعنی ایک ہتھیلی کےدرمیانی گہراؤ کے برابر) لگا ہوگا ان کو بھی ناپاک سمجھا جائےگا اور اس میں نماز پڑھنا ٹھیک نہ ہوگا۔اور اگر نمازیں پڑھ لی ہوں تو وہ واجب الاعادہ ہوں گی۔

الاشباہ والنظائر میں ہے:

"شك في وجود النجس فالأصل بقاء الطهارة  ولذا قال محمد رحمه الله: حوض تملأ منه الصغار، والعبيد بالأيدي الدنسة، والجرار الوسخة يجوز الوضوء منه ما لم يعلم به  نجاسة."

(ص:49،ألقاعدة الثالثة:اليقين لا يزول بالشك،ط:دار الكتب العلمية)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"قوله ولو مخففة ؛ لأن أثر التخفيف وهو العفو عما دون الربع لا يظهر ‌في ‌الماء، وأفاد ط أنه لو أصاب هذا الماء ثوبا فالظاهر أنه لا تعتبر هذه النجاسة بالمخففة."

(ص:211،ج:1،كتاب الطهارة،ط:سعيد)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وهو إما طعم أو لون أو ريح(قوله أثره الأولى أثرها أي النجاسة ... وفي شرح هدية ابن العماد لسيدي عبد الغني: الظاهر أن المراد بهذه الأوصاف أوصاف النجاسة لا الشيء المتنجس كماء الورد والخل مثلا فلو صب في ماء جار يعتبر أثر النجاسة التي فيه لا أثره نفسه لطهارة المائع بالغسل)."

(ص:188،ج:1،کتاب الطهارة،باب المياه،ط:سعيد)

حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:

"وأمر العبادة يحتاط فيه قوله: "فيلزم اعادة صلوات تلك المدة" لأن المانع قد ثبت بيقين وهو الحدث ومثله نجاسة الثياب."

(ص:42،كتاب الطهارة ‌‌فصل في مسائل الآبار،ط:دار الکتب العلمیة)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144408102018

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں