بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 شوال 1441ھ- 30 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

پندرہ شعبان کی رات قبرستان جانا


سوال

کیا 15 شعبان کو قبرستان جانا چاہیے؟

جواب

پندرہ شعبان کی رات میںقبر کی زیارت، آخرت کی یاد اور مرحومین کے لیے دعائے مغفرت اور ایصالِ ثواب کے مقصد سے قبرستان جانے کی  فی نفسہ ممانعت نہیں ہے،  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ میں صرف ایک مرتبہ اس شب میں قبرستان جاناثابت ہے، اس لیے اگر کوئی شخص زندگی میں صرف ایک مرتبہ بھی اتباعِ سنت کی نیت سے اس رات میں قبرستان چلاجائے تواتباعِ سنت کاثواب حاصل ہوگا، لیکن  ہر سال اسے سنت سمجھ کر  اس کا التزام کرنا درست نہیں ہے اورآج کل چوں کہ اس میں بہت سی خرافات جمع ہوگئی ہیں مثلاً لوگ اجتماعی حیثیت  میں  جاتے ہیں،عورتیں اوربچے بھی ساتھ ہوتے ہیں، قبروں پر چراغاں کیاجاتا ہے  اورشہر خموشاں میں میلے ٹھیلے کا سماں ہوتا ہے جس  سے زیارتِ قبور کامقصدبھی  حاصل نہیں ہوتا اورقیمتی رات قبرستان آنےجانے میں گزرجاتی ہے؛ اس لیے اجتناب لازم ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144108200648

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے