بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 رجب 1444ھ 28 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

پانچ تولہ سونا اور خرچہ کے لیے پانچ ہزار کی رقم ہونے کی صورت میں زکوٰۃ کا حکم


سوال

 میری بیوی کے پاس 5 تولہ سونا ہے، سونے کا نصاب پورا نہیں ہے،  لیکن اس کے  پاس کچھ نقد رقم 5 ہزار روپے ہیں  جو  میں انھیں   خرچہ کے لیے دیتا ہوں تو کیا اس پر زکوۃ لازم ہوگی یا نہیں؟  اور  یہ بھی بتائیں  کہ  جو ضرورت  کے  پیسے ہوں  تو  ان کو ملایا  جائے گا یا جو ضرورت سے زائد ہوں؟

جواب

واضح رہے کہ  اگر کسی کی ملکیت میں صرف پانچ تولہ سونا ہو، اس کےعلاوہ نقدی، چاندی یا مالِ تجارت میں سے کچھ بھی نہ ہو تو  اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے ،اس لیے کہ سونے پر زکاۃ فرض ہونے کے لیے سونے  کا   ساڑھےسات تولہ ہونا شرعاً ضروری ہوتا ہے، اس سے کم سونا ہو نے کی صورت میں اس پر زکاۃ واجب نہیں ہوتی۔

البتہ اگر سونے کے ساتھ  ضرورت سے زائد نقد رقم بچت میں موجود ہو  (خواہ وہ معمولی ہو)، یا کچھ بھی چاندی یا مالِ تجارت ہو تو زکاۃ واجب ہونے کے لیے ساڑھے سات تولہ سونا ہونا ضروری نہیں، بلکہ مذکورہ اموال کی قیمت اگر ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر یا اس سے زائد ہو تو زکاۃ کا نصاب مکمل تصور کیا جاتاہے ، اور سال گزرنے پر  کل مال میں سے ڈھائی فیصد زکاۃ ادا کرنا لازم ہوگا۔ 

صورتِ مسئولہ میں اگر آپ اپنی بیوی کو پانچ ہزار روپے گھریلو اخراجات وغیرہ کے لیے دیتے ہیں تو اس رقم کے مالک آپ ہوں گے، اس لیےاس صورت میں  بیوی پر نصاب سے کم سونا ہونے کی وجہ سے زکاۃ لازم نہیں ہوگی۔ اور اگر آپ بیوی کو جیب خرچی کے طور پر مالک بنا کردیتے ہیں   لیکن وہ رقم بیوی کے پاس بچتی نہیں ہے، خرچ ہوجاتی ہے  تو بھی آپ کی اہلیہ صاحبِ نصاب نہیں ہوں گی،  اور اگر آپ جیب خرچ کے طور پر دیتے ہیں اور اس میں کچھ رقم ضرورت سے زائد  بچنے کی وجہ سے  آپ کی اہلیہ صاحبِ نصاب  بن چکی ہیں، لیکن زکاۃ  کا  سال مکمل ہونے کے دن تک اگر وہ رقم ضرورت میں خرچ ہوگئی ہو یا اس قدر رقم کی ادائیگی گھریلو اخراجات یا ذاتی اخراجات کی مد میں ذمے  میں لازم ہوچکی ہو تو   تب بھی زکاۃ  لازم  نہیں ہوگی۔  اور اگر یہ صورت نہ ہو، بلکہ زکاۃ  کا سال مکمل ہونے کے دن وہ ضرورت سے زائد رقم موجود ہو تو پھر  پانچ تولہ سونے کے  ساتھ مل کر اس کی زکاۃ لازم ہوگی۔

واضح رہے کہ مال پر زکاۃ  لازم ہونے کے لیے اس پر سال گزرنا شرط ہے، جس دن آدمی صاحبِ نصاب بنے اس دن سے زکاۃ کا سال شروع ہوتاہے، اور ٹھیک اسی دن اگلے سال زکاۃ کا سال مکمل ہوتاہے،  نصاب پر سال گزرنے کا مطلب یہ ہے کہ سال کے دونوں اطراف میں نصاب مکمل ہو، اگرچہ درمیان میں کم زیادہ ہوتا ہے (بشرط یہ کہ بالکل ختم نہ ہوگیا ہو)، لہذا اگر آپ کی بیوی کبھی نصاب کی مالک نہیں بنیں تو جس وقت آپ ان کو ملکیتی طور پر  رقم دیں گے  اور یہ رقم اس وقت بنیادی ضرورت سے زائد ہوگی تو اس وقت چوں کہ وہ نصاب کی مالک بنیں گی، اور اس کے بعد جب سال مکمل ہوجائے گا تو پھر سال کے آخر میں نصاب دیکھا جائے گا، اگر مجموعی طور پر نصاب کے بقدر رقم موجود ہے تو زکاۃ  لازم ہوگی، ورنہ نہیں۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 259، 262):

"(وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه ... فارغ (عن حاجته الأصلية) لأن المشغول بها كالمعدوم. وفسره ابن ملك بما يدفع عنه الهلاك تحقيقاً كثيابه أو تقديراً كدينه  (نام ولو تقديراً) بالقدرة على الاستنماء ولو بنائبه.

 (قوله: ملك نصاب) فلا زكاة في سوائم الوقف والخيل المسبلة لعدم الملك، ولا فيما أحرزه العدو بدارهم لأنهم ملكوه بالإحراز عندنا خلافاً للشافعي بدائع، ولا فيما دون النصاب. ... (قوله: وفارغ عن حاجته الأصلية) أشار إلى أنه معطوف على قوله عن دين (قوله: وفسره ابن ملك) أي فسر المشغول بالحاجة الأصلية والأولى فسرها، وذلك حيث قال: وهي ما يدفع الهلاك عن الإنسان تحقيقاً كالنفقة ودور السكنى وآلات الحرب والثياب المحتاج إليها لدفع الحر أو البرد أو تقديراً كالدين، فإن المديون محتاج إلى قضائه بما في يده من النصاب دفعاً عن نفسه الحبس الذي هو كالهلاك وكآلات الحرفة وأثاث المنزل ودواب الركوب وكتب العلم لأهلها فإن الجهل عندهم كالهلاك، فإذا كان له دراهم مستحقة بصرفها إلى تلك الحوائج صارت كالمعدومة، كما أن الماء المستحق بصرفه إلى العطش كان كالمعدوم وجاز عنده التيمم. اهـ. وظاهر قوله فإذا كان له دراهم إلخ أن المراد من قوله: وفارغ عن حاجته الأصلية ما كان نصاباً من النقدين أو أحدهما فارغاً عن الصرف إلى تلك الحوائج، لكن كلام الهداية مشعر بأن المراد به نفس الحوائج، فإنه قال: وليس في دور السكنى وثياب البدن وأثاث المنازل ودواب الركوب وعبيد الخدمة وسلاح الاستعمال زكاة؛ لأنها مشغولة بحاجته الأصلية وليست بنامية. اهـ. وبه يشعر كلام المصنف الآتي أيضاً. وأشار كلام الهداية إلى أنه لايضر كونها غير نامية أيضاً؛ إذ لا مانع من خروجها مرتين كما خرج الدين ثانياً بقوله: فارغ عن حوائجه الأصلية، وخصه بالذكر كما قال القهستاني: لما فيه من التفصيل.

قلت: على أنه لايعترض بالقيد اللاحق على السابق الأخص، فإن الحوائج الأصلية أعم من الدين والنامي أعم منها لأنه يخرج به كتب العلم لغير أهلها، وليس من الحوائج الأصلية، لكن قد يقال: المتون موضوعة للاختصار فما فائدة إخراج الحوائج مرتين، نعم تظهر الفائدة في ذكر القيدين على ما قرره ابن ملك من أن المراد بالأول النصاب من أحد النقدين المستحق الصرف إليها، فيكون التقييد بالنماء احترازا عن أعيانها، والتقييد بالحوائج الأصلية احترازا عن أثمانها، فإذا كان معه دراهم أمسكها بنية صرفها إلى حاجته الأصلية لاتجب الزكاة فيها إذا حال الحول، وهي عنده، لكن اعترضه في البحر بقوله: ويخالفه ما في المعراج في فصل زكاة العروض أن الزكاة تجب في النقد كيفما أمسكه للنماء أو للنفقة، وكذا في البدائع في بحث النماء التقديري. اهـ.

قلت: وأقره في النهر والشرنبلالية وشرح المقدسي، وسيصرح به الشارح أيضاً، ونحوه قوله في السراج: سواء أمسكه للتجارة أو غيرها، وكذا قوله في التتارخانية: نوى التجارة أولا، لكن حيث كان ما قاله ابن ملك موافقاً لظاهر عبارات المتون كما علمت، وقال ح: إنه الحق، فالأولى التوفيق بحمل ما في البدائع وغيرها، على ما إذا أمسكه لينفق منه كل ما يحتاجه فحال الحول، وقد بقي معه منه نصاب فإنه يزكي ذلك الباقي، وإن كان قصده الإنفاق منه أيضاً في المستقبل لعدم استحقاق صرفه إلى حوائجه الأصلية وقت حولان الحول، بخلاف ما إذا حال الحول وهو مستحق الصرف إليها، لكن يحتاج إلى الفرق بين هذا، وبين ما حال الحول عليه، وهو محتاج منه إلى أداء دين  كفارة أو نذر أو حج، فإنه محتاج إليها أيضا لبراءة ذمته وكذا ما سيأتي في الحج من أنه لو كان له مال، ويخاف العزوبة يلزمه الحج به إذا خرج أهل بلده قبل أن يتزوج، وكذا لو كان يحتاجه لشراء دار أو عبد، فليتأمل، والله أعلم".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 302):

"(وشرط كمال النصاب) ولو سائمة (في طرفي الحول) في الابتداء للانعقاد وفي الانتهاء للوجوب".

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109201022

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں