بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 شوال 1443ھ 26 مئی 2022 ء

دارالافتاء

 

5 لاکھ روپے کی ضرورت پر 10 لاکھ کی گاڑی قسطوں پر خرید کر بائع یا کسی اور کو 5 لاکھ پر فروخت کردی


سوال

ایک شخص زید کو رقم کی ضرورت ہے،زید عمر سے دس لاکھ کے عوض ایک سال کی مدت پر گاڑی خریدتا ہے ،پھر اسی گاڑی کو عمر یا کسی اور شخص پر نقد پانچ لاکھ کے عوض فروخت کرتا ہے کیوں کہ زید کو وقتی  طورپررقم کی ضرورت ہے۔کیا مذکورہ طریقہ درست ہے؟

جواب

 صورت مسئولہ میں بائع کا دین (قرض)سے بچنے کے لیے یہ حیلہ اختیار کرنا مکروہ تحریمی ہے ،اس کو فقہاء کی اصطلاح میں بیع عینہ کہتے ہیں ،یہ سود خوروں کا ایک حیلہ ہے جس کو سود خوروں نے ایجاد کیا ہے جس کے ذریعہ قرضہ لینے والے کی مجبوریوں سے غلط فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔پھر مشتری کا اس مبیع کو اسی بائع کو فروخت کرنا  یہ بھی مکروہ تحریمی ہے ،اور اگر بائع کے علاوہ کسی اور کو فروخت کرتا ہے تو یہ مکروہ تنزیہی ہے ۔

الدر المحتار مع الرد میں ہے:

(أمر) الأصيل (كفيله ببيع العينة) أي بيع العين بالربح نسيئة ليبيعها المستقرض بأقل ليقضي دينه، اخترعه أكلة الربا، وهو مكروه مذموم شرعا لما فيه من الإعراض عن مبرة الإقراض (قوله: أي بيع العين بالربح) أي بثمن زائد نسيئة: أي إلى أجل وهذا تفسير للمراد من بيع العينة في العرف بالنظر إلى جانب البائع، فالمعنى أمر كفيله بأن يباشر عقد هذا البيع مع البائع بأن يشتري منه العين على هذا الوجه؛ لأن الكفيل مأمور بشراء العينة لا ببيعها، وأما بيعه بعد ذلك لما اشتراه فليس على وجه العينة؛ لأنه يبيعها حالة بدون ربح.(قوله: وهو مكروه) أي عند محمد، وبه جزم في الهداية

(کتاب الکفالۃ مطلب فی بیع العینہ ج:5،ص:325،ط:سعید)

الدر المحتار مع الرد میں ہے:

ثم قال في الفتح ما حاصله: إن الذي يقع في قلبي أنه إن فعلت صورة يعود فيها إلى البائع جميع ما أخرجه أو بعضه كعود الثوب إليه في الصورة المارة وكعود الخمسة في صورة إقراض الخمسة عشر فيكره يعني تحريما، فإن لم يعد كما إذا باعه المديون في السوق فلا كراهة فيه بل خلاف الأولى، فإن الأجل قابله قسط من الثمن، والقرض غير واجب عليه دائما بل هو مندوب وما لم ترجع إليه العين التي خرجت منه لا يسمى بيع العينة؛ لأنه من العين المسترجعة لا العين مطلقا وإلا فكل بيع بيع العينة اهـ، وأقره في البحر والنهر والشرنبلالية وهو ظاهر، وجعله السيد أبو السعود محمل قول أبي يوسف، وحمل قول محمد والحديث على صورة العود.

(کتاب الکفالۃ مطلب فی بیع العینہ ج:5،ص:326،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144303100745

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں