بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

پالتی ماکر سونے سے وضو کا حکم


سوال

کیا پالتی مارکر سونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟ رہنمائی فرمائیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں پالتی مار کر یعنی چہار زانوں بیٹھنے کی حالت میں سونے سے وضو کا حکم یہ ہے کہ اگر پالتی مارکرسونےوالے نے کسی چیز پر اس طرح ٹیک لگائی ہوئی ہو کہ اس ٹیک کو ہٹادیا جائے تو وہ گر جائے یا اس کا مقعد زمین سے اٹھا ہوا ہو تو اس حالت میں سونے سے وضو ٹوٹ جائے گا، لیکن اگر وہ ٹیک لگائے بغیر سویا ہو تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا، نیز یہی حکم اس صورت میں بھی ہوگا جب کہ آلتی پالتی مار کر یعنی چہار زانوں بیٹھنے کی حالت میں سونے والے نے اپنا ہاتھ ٹھوڑی کے نیچے رکھ کر ٹھوڑی کو ہاتھ سے ٹیک دی ہوئی ہو، یعنی کسی دوسری چیز سے ٹیک لگائی ہوئی ہو تب تو وضو ٹوٹ جائے گا ورنہ نہیں ٹوٹے گا۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(و) ينقضه حكما (نوم يزيل مسكته) أي قوته الماسكة بحيث تزول مقعدته من الأرض، وهو النوم على أحد جنبيه أو وركيه أو قفاه أو وجهه (وإلا) يزل مسكته (لا) يزل مسكته (لا) ينقض وإن تعمده في الصلاة أو غيرها على المختار كالنوم قاعدا ولو مستندا إلى ما لو أزيل لسقط...

(قوله: وهو) أي ما تزول به المسكة المذكورة (قوله: أو وركيه) الورك بالفتح والكسر وككتف ما فوق الفخذ مؤنثة جمعه أوراك قاموس، ويلزم من الميل على أحد الوركين سواء اعتمد على المرفق أو لا زوال مقعدته عن الأرض، وهو المراد بقول الكنز ومتورك حيث عده ناقضا كما في البحر. اهـ. ح. أقول: وهو غير المتورك الآتي قريبا (قوله: على المختار) نص عليه في الفتح، وهو قيد في قوله في الصلاة. قال في شرح الوهبانية: ظاهر الرواية أن النوم في الصلاة قائما أو قاعدا أو ساجدا لا يكون حدثا سواء غلبه النوم أو تعمده".

(کتاب الطہارۃ، سنن الوضوء، ج:1، ص:141، ط:ایج ایم سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144507100331

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں