بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 ربیع الاول 1444ھ 28 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

پاکستان والوں کے سعودیہ عرب میں چاند کا نظرآنا کیوں کافی نہیں


سوال

رمضان المبارک کے آتے ہی ملک بھرمیں روزے داروں کے دو گروہ بن جاتے ہیں، ایک وہ جو اپنی حکومت کے حکم کے منتظر ہوتے ہیں، جبکہ دوسرا گروہ دوسرے ملک کے فیصلے کے مطابق روزہ و عیدین کرتے ہیں۔

آیا یہ سب کچھ درست ہے؟ کیا اسلام میں  ایسا  کرنے سے کوئی  گناہ لازم تو نہیں آتا؟ کیا اسلام میں اس کی کوئی  گنجائش موجود ہے؟ اگر یہ سب کچھ ناممکن ہے تو کس دلیل کی بنیاد پر چاند دیکھنے کا شرعی حکم کیا ہے ؟ اگر چاند سعود یہ میں   نظر آسکتا ہے تو کیا پاکستان میں بھی دیکھنا ضروری ہے؟

جواب

واضح رہے کہ شرعی  اعتبار  سے  روزہ  رکھنے اور عید کرنے  کا مدار  چاند  دیکھنے  پر  ہے، احادیثِ  مبارکہ  میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی بات  کی تلقین فرمائی ہے کہ  چاند دیکھ کر روزہ رکھا جائے اور چاند دیکھ کر ہی عید کی جائے،اور چاند کے مطالع (طلوع ہونے کی جگہیں) مختلف علاقوں میں الگ الگ ہوتے ہیں، لہذا یہ ممکن ہے  کہ ایک علاقہ میں چاند نظر آجائے،جب کہ دیگرعلاقوں میں دکھائی نہ دے، اس مسئلہ کوفنی اعتبارسے ’’اختلافِ مطالع کے اعتبار یا عدمِ اعتبار کا مسئلہ‘‘   کہاجاتاہے۔ اس سلسلہ میں حنفیہ کے نزدیک راجح قول یہی ہے کہ قریبی ملکوں اورشہروں میں جوایک دوسرے سے ملے ہوئے ہوں اختلافِ  مطالع کااعتبارنہیں، بلکہ ایک مقام پرنظرآنے والاچاند دوسرے  قریبی شہروں اورپڑوسی ملک کے لیے بھی حجت ہے۔ البتہ اگرایک ملک دوسرے ملک سے کافی فاصلے پرواقع ہے، تواس صورت میں اختلافِ  مطالع کااعتبارہوگا، یعنی دوسرے ملک کے لیے الگ رؤیت کااعتبارہوگا۔ وہاں کے باشندوں کوچاہیے کہ چانددیکھ کررمضان اورعیدکریں۔

پھر  بلادِ  بعیدہ(جو ملک اور شہر ایک دوسرے سے دور ہیں ) کی تعیین میں اقوال مختلف ہیں، علامہ شامی نے لکھا ہے کہ: بعض فقہاء فرماتےہیں: ایک مہینہ کی مسافت پر مطلع بدل جاتا ہے، اور فقہاء کی تصریحات کے مطابق تین دن کا سفر ۴۸ میل بنتا ہے تو اس کے حساب سے چارسو اسی میل کی مسافت پر مطلع تبدیل ہوگا۔ دوسرا قول یہ لکھا ہے کہ: چوبیس فرسخ پر مطلع بدل جائے گا۔ اور معارف السنن میں حضرت بنوری رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ ہر پانچ سو میل کی مسافت پر مطلع بدل جاتا ہے۔(معارف السنن ، ج: ۵، ص: ۳۳۷)   

اس  مسئلہ  کی مؤیدروایت،  ترمذی شریف میں حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے:

"حدثنا محمد بن أبي حرملة قال: أخبرني كريب، أن أم الفضل بنت الحارث، بعثته [ص:68] إلى معاوية بالشام قال: فقدمت الشام، فقضيت حاجتها، واستهل علي هلال رمضان وأنا بالشام، فرأينا الهلال ليلة الجمعة، ثم قدمت المدينة في آخر الشهر، فسألني ابن عباس، ثم ذكر الهلال، فقال: متى رأيتم الهلال، فقلت رأيناه ليلة الجمعة، فقال: أأنت رأيته ليلة الجمعة؟ فقلت: رآه الناس، وصاموا، وصام معاوية، قال: لكن رأيناه ليلة السبت، فلا نزال نصوم حتى نكمل ثلاثين يوما، أو نراه، فقلت: ألا تكتفي برؤية معاوية وصيامه، قال: لا، هكذا «أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم»: «حديث ابن عباس حديث حسن صحيح غريب، والعمل على هذا الحديث عند أهل العلم أن لكل أهل بلد رؤيتهم»."

( سنن الترمذي 3/ 67الناشر : دار إحياء التراث العربي - بيروت)

’’کریب کہتے ہیں کہ  امِ  فضل بنتِ  حارث نے مجھ کو امیر معاویہ کے پاس شام بھیجا، کریب کہتے ہیں: میں شام گیا اور ان کا کام پورا کیا، اسی اثنا میں رمضان آگیا، پس ہم نے جمعہ کی شب چاند دیکھا، پھر میں رمضان کے آخر میں مدینہ واپس آیا تو ابن عباس نے مجھ سے چاند کا ذکر کیا اور پوچھا کہ تم نے کب چاند دیکھا تھا؟  میں نے کہا:  جمعہ کی شب کو، ابن عباس نے فرمایا: تم نے خود دیکھا تھا؟  میں نے کہا: لوگوں نے دیکھا اور روزہ رکھا ،امیر معاویہ نے بھی روزہ رکھا۔ ابن عباس نے فرمایا:  ہم نے تو ہفتے کی رات چاند دیکھا تھا؛ لہذ اہم تیس روزے رکھیں گے یا یہ کہ عیدالفطر کا چاند نظر آجائے۔  کریب کہتے ہیں: میں نے کہا:  کیا آپ کے  لیے امیر معاویہ کا چاند دیکھنا اور روزہ رکھنا کافی نہیں؟  ابن عباس نے فرمایا:  نہیں، ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی طرح حکم دیا ہے‘‘۔

مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

’’ہمارے استاذ محترم  حضرت مولانا سید  محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ  بھی اس کی ترجیح کے قائل تھے اور استاذ محترم  حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی رحمۃ  اللہ علیہ  نے  فتح الملہم شرح  مسلم میں اسی آخری قول  کی ترجیح کے لیے  ایک ایسی چیز کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اس پر نظر کرنے کے بعد اس قول کی ترجیح  واضح ہوجاتی ہے خصوصا اس زمانہ میں  جبکہ مشرق و مغرب کے فاصلے چند گھنٹوں میں طے ہورہے ہیں ۔

وہ یہ کہ قرآن و سنت میں یہ بات منصوص قطعی ہے کہ کوئی مہینہ انتیس دن سے کم اور تیس دن سے زائد نہیں ہوتا بلاد بعیدہ اور مشرق و مغرب  کے فاصلوں میں اگر اختلاف مطالع مطلقا نظر اندار کر دیا جائے  تو اس نص قطعی کے خلاف  یہ الزام آجائے گا  کہ کسی شہر میں اٹھائیس کو بعید ملک سے  اس کی شہادت پہنچ جائے  کہ آج وہاں چاند دیکھ لیا گیا ہے تو اگر اس شہر کو دوسرے کے تابع کیا جائے تو اس کا مہینہ اٹھائیس کا رہ جائے گا ،اسی طرح اگر کسی شہر میں رمضان کی تیس تاریخ کو کسی بعید ملک کے متعلق بذریعہ شہادت یہ ثابت ہوجائے کہ آج وہاں ۲۹ تاریخ ہے اور اگر چاند  نظر نہ آیا  تو کل وہاں  روزہ  ہوگا اور اتفاقا  چاند نظر نہ آیا تو   ان کو اکتیس روزے رکھنے پڑیں گے اور مہینہ اکتیس کا قرار دینا پڑے گا جو نص قطعی کے خلاف ہے ،اس لیے نا گزیر  ہے کہ بلاد بعیدہ میں اختلاف مطالع کا اعتبار کیا جائے ۔۔۔۔ الخ

حضرت علامہ عثمانی کی اس تحقیق  سے اس کا   بھی فیصلہ ہوگیا  کہ بلاد قریبہ اور بعیدہ  میں قرب و بعد کا معیار کیا اور کتنی مسافت ہوگی ،وہ یہ کہ جن بلاد میں اتنا فاصلہ ہوکہ ایک جگہ کی رؤیت  دوسری جگہ اعتبار کرنے کے نتیجے میں مہینہ کے دن اٹھائیس  رہ جائیں یا اکتیس ہوجائیں وہاں اختلاف  مطالع کا اعتبار کیا جائے گا اور جہاں اتنا فا صلہ نہ ہو وہاں نظر اندز کیاجائے گا ۔‘‘

(رؤیت ہلال ،صفحہ :۲۳ ط:ادارۃ المعارف کراچی )

فتاوی بینات میں ہے :

ــ ’’پہلے زمانہ میں چونکہ تمام ممالک اسلامی تھے مملکت ساری ایک سمجھی جاتی تھی ،امیر ایک ہوتا تھا تو اس وجہ سے وہ  ایک ہی رؤیت پر عمل کرتے ،جب کہ آج کل مملکتیں بھی علیحدہ ہیں ،امیر اور بادشاہ  بھی مختلف  ہیں  ،ایک ملک کا حکم دوسرے ملک والوں کے لیے ماننا لازم بھی نہیں ہے،اس لیے اس زمانہ میں اگر طلوع غروب  میں اختلاف ہے تو اس کا اعتبار کرنا ضروری ہے ۔‘‘

(جلد: ۳ صفحہ :۶۳ ط:مکتبہ بینات)

لہذا صورت مسؤلہ میں چوں کہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیا ن مطالع کے اعتبار سے تفاوت بہت زیادہ پایا جاتا ہے ،اس  لیے صورتِ مسئولہ میں پاکستان میں رہنے والوں کے  لیے پاکستان کے مطلع کے اعتبار سے روزہ رکھنا ضروری ہے ،یعنی جب تک پاکستان والے چاند نہیں دیکھیں گے تب تک ان کے  لیے  سعودیہ  کا اعتبار کر تے ہوئے روزہ رکھنا صحیح نہیں ہو گا ، اور نہ ہی   سعودیہ والوں کا چاند دیکھ کر روزہ رکھنا پاکستان والوں کے  لیے حجت  ہوگا، اور یہی حکم عید کا بھی ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ جب کسی ملک میں رویتِ ہلال کمیٹی مقرر ہو، جس کو سرکاری طور پر چاند ہونے یا نہ ہونے کے فیصلے کا اختیار ہو تو شرعی اعتبار سے اسی کمیٹی کا فیصلہ معتبر ہوتا ہے، لہذا کسی علاقے  میں چاند نظر آجائے تو وہاں کے لوگ کمیٹی یا اس کے نمائندے کے سامنے شرعی شہادت پیش کریں،اور مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی کے فیصلے کی پابندی کریں۔خلاصہ یہ کہ موجودہ صورتِ حال میں جو اختلاف ہر سال سامنے آتا ہے۔ اس میں پشاور ودیگر علاقوں سمیت پورے ملک کے لوگوں پر مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی کے فیصلے کی پابندی لازم ہے۔

یہ مسئلہ بھی پیشِ نظر رہے کہ اگر کسی شخص نے خود چاند دیکھا ہو اور اس کی گواہی بھی دی ہو، لیکن کسی بنا پر اس کی گوہی قبول نہ کی گئی ہو تو اپنی ذات کی حد تک وہ شخص احتیاط کا دامن تھامتے ہوئے عمل کرے گا، چنانچہ اگر رمضان کا چاند ہو تو وہ خود روزہ رکھے گا اگرچہ کمیٹی کی طرف سے اعلان نہ ہوا ہو، البتہ عید کے چاند کی صورت میں وہ احتیاط پر عمل کرتے ہوئے روزہ رکھے اور تمام لوگوں کے ساتھ ہی عید کرے۔ 

فتاوی شامی میں ہے:

"(واختلاف المطالع) ورؤيته نهارا قبل الزوال وبعده (غير معتبر على) ظاهر (المذهب) وعليه أكثر المشايخ وعليه الفتوى بحر عن الخلاصة(فيلزم أهل المشرق برؤية أهل المغرب) إذا ثبت عندهم رؤية أولئك بطريق موجب كما مر، وقال الزيلعي: الأشبه أنه يعتبر لكن قال الكمال: الأخذ بظاهر الرواية أحوط.

 (قوله: واختلاف المطالع) جمع مطلع بكسر اللام موضع الطلوع بحر عن ضياء الحلوم (قوله: ورؤيته نهارا إلخ) مرفوع عطفا على اختلاف ومعنى عدم اعتبارها أنه لا يثبت بها حكم من وجوب صوم أو فطر فلذا قال في الخانية فلا يصام له ولا يفطر وأعاده وإن علم مما قبله ليفيد أن قوله لليلة الآتية لم يثبت بهذه الرؤية بل ثبت ضرورة إكمال العدة كما قررناه فافهم (قوله: على ظاهر المذهب) اعلم أن نفس اختلاف المطالع لا نزاع فيه ...وإنما الخلاف في اعتبار اختلاف المطالع بمعنى أنه هل يجب على كل قوم اعتبار مطلعهم، ولا يلزم أحد العمل بمطلع غيره أم لا يعتبر اختلافها بل يجب العمل بالأسبق رؤية حتى لو رئي في المشرق ليلة الجمعة، وفي المغرب ليلة السبت وجب على أهل المغرب العمل بما رآه أهل المشرق، فقيل بالأول واعتمده الزيلعي وصاحب الفيض، وهو الصحيح عند الشافعية؛ لأن كل قوم مخاطبون بما عندهم كما في أوقات الصلاة، وأيده في الدرر بما مر من عدم وجوب العشاء والوتر على فاقد وقتهما وظاهر الرواية الثاني وهو المعتمد عندنا وعند المالكية والحنابلة لتعلق الخطاب عملا بمطلق الرؤية في حديث «صوموا لرؤيته» بخلاف أوقات الصلوات، وتمام تقريره في رسالتنا المذكورة."

 (رد المحتار2/ 393ط:سعيد)

 بدائع الصنائع  میں ہے:

" هذا إذا كانت المسافة بين البلدين قريبة لا تختلف فيها المطالع، فأما إذا كانت بعيدة فلا يلزم أحد البلدين حكم الآخر لأن مطالع البلاد عند المسافة الفاحشة تختلف فيعتبر في أهل كل بلد مطالع بلدهم دون البلد الآخر."

(2/ 83الناشر: دار الكتب العلمية)

تبیین الحقائق میں ہے:

"(ولا عبرة باختلاف المطالع ) وقيل يعتبر ومعناه أنه إذا رأى الهلال أهل بلد ولم يره أهل بلدة أخرى يجب أن يصوموا برؤية أولئك كيفما كان على قول من قال لا عبرة باختلاف المطالع وعلى قول من اعتبره ينظر فإن كان بينهما تقارب بحيث لا تختلف المطالع يجب وإن كان بحيث تختلف لا يجب وأكثر المشايخ على أنه لا يعتبر حتى إذا صام أهل بلدة ثلاثين يوما وأهل بلدة أخرى تسعة وعشرين يوما يجب عليهم قضاء يوم والأشبه أن يعتبر لأن كل قوم مخاطبون بما عندهم·"

(کتاب الصوم،ج:1،ص:321،ط:مکتبه امداديه،ملتان)

معارف السنن میں ہے:

"و حققوا لوقوع الاختلاف في المطلع بنحو خمسمائة ميل·"

(كتاب الصوم 5 / 343 ط: مجلس الدعوة و التحقيق)

فتاوی تاتار خانیہ میں ہے:

"وفی الظهيرة وعن ابن عباس انه یعتبر فی حق کل بلدۃرؤیة اهلها۔وفی القدوری اذا کان بین البلدتین تفاوت لایختلف المطالع لزم حکم اهل احدی البلدتین البلدۃالاخریٰ، فاما اذا کان تفاوت یختلف المطالع لم یلزم حکم احدی البلدتین البللدۃالاخریٰ."

(کتاب الصوم 3 / 365،ط:مکتبه زکریا،دیوبند)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144308102270

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں